جدید ٹیکنالوجی سے پانی کی حفاظت یقینی بنائی جاسکتی ہے ،ڈاکٹراشرف
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-02-12
کراچی (اسٹاف رپورٹر )پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی نظام پر دبائو جیسے سنگین مسائل کے حل کے لیے ‘واٹر ریسورس اکائوٹیبلٹی ان پاکستان (WRAP) پروگرام کے تحت کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے صحافیوں کے لیے خصوصی معلوماتی دورے کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام (17 ملین ہیکٹر) کے باوجود پانی کے ضیاع اور قلت کا شکار ہے، جہاں پانی کے استعمال کی مجموعی کارکردگی 40 فیصد سے بھی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجیز اور سائنسی ڈیٹا کے ذریعے ہی پاکستان میں پانی کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور ضیاع روکاجاسکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد اشرف نے انکشاف کیا کہ ملک میں زیرِ زمین پانی 90 فیصد گھریلو اور 100 فیصد صنعتی ضروریات پوری کر رہا ہے، جبکہ ڈیموں میں مٹی بھرنے سے سالانہ 0.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔