بھارتی آبی جارحیت، چناب پر متنازعہ پن بجلی منصوبے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں برس اپریل میں پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے ساتھ دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر رکھا ہے، ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس سے متعلق ماہرین کی کمیٹی نے رواں ماہ کے اوائل میں منعقدہ اپنے 45 ویں اجلاس کے دوران اس منصوبے کی منظوری دی۔
اجلاس کی کارروائی کے مطابق کمیٹی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اگرچہ دریائے چناب کے طاس کا پانی 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے اور اس منصوبے کے ابتدائی پیرامیٹرز بھی اسی معاہدے کی روشنی میں طے کیے گئے تھے تاہم اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔
پینل نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا کہ 23 اپریل 2025 سے سندھ طاس معاہدہ معطل ہے جس کے بعد اب انڈیا اس خطے میں پانی کے ذخائر اور بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ جب تک سندھ طاس معاہدہ فعال تھا، پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب کے دریاؤں پر حقوق حاصل تھے جبکہ انڈیا کو راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں کے استعمال کا حق دیا گیا تھا۔
بھارتی حکومت نے دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبے کی حتمی منظوری دی جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں، یہ منصوبہ بھارت کے غیر قانونی قبضہ میں موجود جموں و کشمیر میں تعمیر کیا جائے گا اور اس سے 260 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اس منصوبے پر مجموعی لاگت 3 ہزار 277 کروڑ 45 لاکھ بھارتی روپے آئے گی اور اس پر عملی کام آئندہ سال کے آغاز میں شروع کیے جانے کا امکان ہے، اس منصوبے کو بھارت کی سرکاری کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ تیار کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دلہستی سٹیج ٹو منصوبہ پاکستان کے لیے دفاعی اور تزویراتی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دریائے چناب پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں میں شامل ہے، اس منصوبے کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے، جسے بھارت نے حال ہی میں یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
دلہستی سٹیج ٹو منصوبے میں دلہستی سٹیج ون کے موجودہ ڈھانچے کو استعمال کیا جائے گا، 390 میگاواٹ کا دلہستی سٹیج ون منصوبہ 2007 میں مکمل ہوا تھا اور یہ رن آف دی ریور سکیم کے تحت چل رہا ہے، نئے مرحلے میں اسی ڈیم، ذخیرۂ آب اور پاور انٹیک کو استعمال کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘