نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں برس اپریل میں پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے ساتھ دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر رکھا ہے، ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس سے متعلق ماہرین کی کمیٹی نے رواں ماہ کے اوائل میں منعقدہ اپنے 45 ویں اجلاس کے دوران اس منصوبے کی منظوری دی۔

اجلاس کی کارروائی کے مطابق کمیٹی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اگرچہ دریائے چناب کے طاس کا پانی 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے اور اس منصوبے کے ابتدائی پیرامیٹرز بھی اسی معاہدے کی روشنی میں طے کیے گئے تھے تاہم اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔

پینل نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا کہ 23 اپریل 2025 سے سندھ طاس معاہدہ معطل ہے جس کے بعد اب انڈیا اس خطے میں پانی کے ذخائر اور بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ جب تک سندھ طاس معاہدہ فعال تھا، پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب کے دریاؤں پر حقوق حاصل تھے جبکہ انڈیا کو راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں کے استعمال کا حق دیا گیا تھا۔

بھارتی حکومت نے دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبے کی حتمی منظوری دی جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں، یہ منصوبہ بھارت کے غیر قانونی قبضہ میں موجود جموں و کشمیر میں تعمیر کیا جائے گا اور اس سے 260 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

اس منصوبے پر مجموعی لاگت 3 ہزار 277 کروڑ 45 لاکھ بھارتی روپے آئے گی اور اس پر عملی کام آئندہ سال کے آغاز میں شروع کیے جانے کا امکان ہے، اس منصوبے کو بھارت کی سرکاری کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ تیار کرے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دلہستی سٹیج ٹو منصوبہ پاکستان کے لیے دفاعی اور تزویراتی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دریائے چناب پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں میں شامل ہے، اس منصوبے کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے، جسے بھارت نے حال ہی میں یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دلہستی سٹیج ٹو منصوبے میں دلہستی سٹیج ون کے موجودہ ڈھانچے کو استعمال کیا جائے گا، 390 میگاواٹ کا دلہستی سٹیج ون منصوبہ 2007 میں مکمل ہوا تھا اور یہ رن آف دی ریور سکیم کے تحت چل رہا ہے، نئے مرحلے میں اسی ڈیم، ذخیرۂ آب اور پاور انٹیک کو استعمال کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب