بھارت کی آبی جارحیت، دریائے چناب پر متنازعہ پن بجلی منصوبے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
بھارتی حکومت نے دریائے چناب پر دلہستی سٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبے کی حتمی منظوری دی جس پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں، یہ منصوبہ بھارت کے غیر قانونی قبضہ میں موجود جموں و کشمیر میں تعمیر کیا جائے گا اور اس سے 260 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اس منصوبے پر مجموعی لاگت 3 ہزار 277 کروڑ 45 لاکھ بھارتی روپے آئے گی اور اس پر عملی کام آئندہ سال کے آغاز میں شروع کیے جانے کا امکان ہے، اس منصوبے کو بھارت کی سرکاری کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ تیار کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دلہستی سٹیج ٹو منصوبہ پاکستان کے لیے دفاعی اور تزویراتی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دریائے چناب پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں میں شامل ہے، اس منصوبے کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے، جسے بھارت نے حال ہی میں یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
دلہستی سٹیج ٹو منصوبے میں دلہستی سٹیج ون کے موجودہ ڈھانچے کو استعمال کیا جائے گا، 390 میگاواٹ کا دلہستی سٹیج ون منصوبہ 2007 میں مکمل ہوا تھا اور یہ رن آف دی ریور سکیم کے تحت چل رہا ہے، نئے مرحلے میں اسی ڈیم، ذخیرۂ آب اور پاور انٹیک کو استعمال کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دلہستی سٹیج ٹو دریائے چناب منصوبے کی
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔