مشتاق بلوچ بھٹو کی جانب سے شہداء اے پی ایس کی برسی پر دعائیہ تقریب
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-04-3
سعودی عرب الریاض میں پاکستان پیپلز پاڑٹی گلف کے نائب صدر مشتاق بلوچ بھٹو کی جانب سے شہداء ( اے پی ایس ) پشاور کی گیارہویں برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کمیونٹی افراد نے شرکت کی ریاض سے عابد شمعون چاند کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشتاق بلوچ بھٹو کا کہنا تھا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا شہداء کی قربانیاں ہماری قوم کیلئے مشعل راہ ہیں شہداء کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے تعلیم ، امن ، اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہو گا قربانیوں کی اس عظیم داستان کو ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا مشتاق بلوچ بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں آج یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو محفوظ، پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان دیں گے جہاں قلم کی طاقت بندوق سے زیادہ مضبوط ہو قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہیں اے پی ایس کے شہدا کی قربانی ہمیں حوصلہ ، استقامت اور امید کا سبق دیتی ہے شہداء کے مشن کو پورا کرنے کیلئے ہر سطح پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے ان شاء اللہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے،، ملک ناظم علی ، ہدایت اللہ ، حیدر علی ، قریب اللہ اور دیگر کا کہنا تھا کہ سانحہ ( اے ایس پی ) کے شہداء کا لہو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ خوف ، نفرت ، اور انتہاپسندی کے اندھیروں کو تعلیم ، شعور اور اتحاد کی روشنی سے شکست دی جا سکتی بہادر پاکستانی قوم نے اپنے مستقبل کو ارض مقدس پر نچھاور کیا اسکول میں طالب علموں پر اندھا دھند فائرنگ سفاکیت کی انتہا تھی تقریب کے آخر میں شہداء اے پی ایس کے بلند درجات کیلئے خصوصی دعا کے بعد تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مشتاق بلوچ بھٹو اے پی ایس
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔