آئی ایس او کراچی کی "شہداء حریت کانفرنس"، شہیدانِ مقاومت کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
مقررین نے کہا کہ پاک افواج کا غزہ جا کر حماس کو غیر مسلح کرنا مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کی صیہونی سازش ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ریجن کے زیر اہتمام "شہداء حریت کانفرنس" کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس شہید جنرل قاسم سلیمانی، شہید ابو مہدی المہندس اور شہید علامہ باقر النمر کی برسی کے موقع پر نیو رضویہ سوسائٹی میں منعقد کی گئی، جس میں معروف علماء، خطباء اور دانشوروں نے شرکت کی اور شہداء کے عظیم مشن اور قربانیوں پر روشنی ڈالی۔ انفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری جنرل علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس نے خطے میں دہشتگردی کے خلاف نبردآزما ہو کر نہ صرف اسلامی ممالک کی سلامتی کو مستحکم کیا، بلکہ بی بی زینب (س) کے حرم سمیت تمام مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے اپنی جان قربان کر دی، ان کی جدوجہد عالم اسلام کے اہم مسئلہ بیت المقدس کی آزادی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ امن کے نام پر پاکستانی فوجی دستوں کو غزہ بھیجنا دراصل اسرائیل کا دفاع کرنا ہے، جو کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اسرائیل مخالف فرمان کو ہرگز فراموش نہیں ہونے دینگے، پاک افواج کا غزہ جا کر حماس کو غیر مسلح کرنے کے مشن کے پیچھے مسلمان کو مسلمان سے لڑانے کی صیہونی سازش ہے۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے نائب صدر علامہ باقر حسین زیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی یہ لازوال قربانیاں تاریخِ اسلام کے عظیم سلسلے کی کڑی ہیں، جو کربلا سے جا ملتی ہیں، شہید باقر النمر کی مظلومانہ شہادت نے عرب سرزمین پر حق و انصاف کی آواز بلند کی اور استحصالی طاقتوں کے خلاف ایک زندہ تحریک کی بنیاد رکھی۔
مولانا سید مبشر حیدر زیدی نے کہا کہ ان شہداء کی یاد ہمیں غفلت کی نیند سے بیدار کرتی ہے اور ہر ظلم کے مقابلے میں سر اٹھانے کا عزم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید نمر سے لے کر شہید سلیمانی تک شہادت کا یہ سلسلہ حق و باطل کی اس تاریخی کشمکش کی علامت ہے، جس کا مرکز و محور کربلا ہے۔ کانفرنس میں شرکاء نے عہد کیا کہ وہ شہداء کے مشن اور پیغامِ حریت کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے اور ہر قسم کے استعمار و استحصال کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔