ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے بزرگ عالم دین علامہ سید عابد الحسینی کے ساتھ خصوصی گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران سابق سینیٹر اور تحریک حسینی کے سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی مسلمان کی فریاد پر اسکی داد رسی اپنے اوپر واجب سمجھتا ہے۔ چنانچہ ابتدائے انقلاب یعنی 1979ء ہی سے وہ فلسطییوں کی فریاد پر لبیک کہتے ہوئے اسرائیل کیخلاف آواز بلند کرتا رہا ہے۔ حالانکہ اس دوران ایران نے اسرائیل کیخلاف کسی جنگی کارروائی میں کبھی پہل نہیں کی ہے۔ فلسطینوں کی اخلاقی، سماجی، سیاسی اور معاشی کمک کی ہے اور انکی مظلومیت کی آواز دنیا تک پہنچائی ہے، جبکہ اسرائیل سے انکی یہ فریاد بھی برداشت نہیں ہو رہی اور اسی کے ردعمل میں انہوں نے بالواسطہ اور بلا واسطہ ایران پر بار بار جارحیت کی ہے۔ علامہ سید عابد الحسینی کا شمار ملک کے بزرگ، جید اور برجستہ علماء میں کیا جاتا ہے۔ سیاسی طور پر نہ صرف علاقائی بلکہ ملکی سطح پر فعال کردار کے حامل رہے ہیں۔ 1984ء سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ جبکہ 1988ء کے بعد تحریک جعفریہ پاکستان میں صوبائی صدر اور مرکزی سینیئر نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ایک طویل مدت تک تحریک جعفریہ پاکستان کی سپریم کونسل اور آئی ایس او کی مجلس نظارت کے رکن بھی رہے۔ 20 مارچ 1997ء میں تحریک جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن منتخب ہوئے، اسی دوران شورائ وحدت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل چنے گئے، جبکہ آج کل علاقائی سطح پر تین مدارس دینیہ کی نظارت کے علاوہ تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت سے کرم نیز ملکی سطح پر حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ایران اور اسرائیل کے موجودہ حالات اور کشیدہ صورتحال نیز عرب سمیت اکثر مسلم ممالک کی معنی خیز خاموشی کے حوالے سے انکے ساتھ خصوصی گفتگو کی ہے، جسے اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
اسلام ٹائمز: اسرائیل اور ایران کے تعلقات میں ہروقت کی بدمزگی اور کشیدگی کی اصل وجہ کیا ہوسکتی ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: کسی بھی دو ممالک کے تعلقات میں گرم جوشی اور سرد مہری یا کشیدگی کی بنیادی وجہ انکے مفادات ہوتے ہیں۔ مفادات میں ہم آہنگی ہو تو تعلقات بہتر، نہیں تو کشیدہ ہوا کرتے ہیں۔ مفادات بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ معاشی مفادات، سماجی، سیاسی، دینی، قومی اور بین الاقوامی مفادات۔ ایران کی سیاست دیگر ممالک سے کافی حد تک جدا ہے۔ ایران کے تعلقات کا محور ذاتی اور سیاسی مفادات کے بجائے عموماً دینی مفادات ہوتے ہیں اور وہ اسے اپنے اوپر واجب سمجھتا ہے، کیونکہ یہی حکم اسلام کا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان فریاد کرے، اور کوئی اس کی فریاد پر لبیک نہ کہے تو وہ مسلمان نہیںِ۔ لہذا ایران کے تعلقات صرف اسرائیل ہی کے ساتھ خراب نہیں بلکہ ان تمام ممالک کے ساتھ کشیدہ ہیں، جو اسرائیلی مفادات کے محافظ ہیں۔ جیسے امریکہ اور یورپ۔ اب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیوں خراب ہیں۔ وہ سب کے علم میں ہے کہ اس کی اصل وجہ فلسطین پر جارحانہ قبضہ اور مسلمانوں کا قتل عام ہے۔
اسلام ٹائمز: اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران اسکی سالمیت کیلئے خطرہ ہے، اسی وجہ سے انکے تعلقات کشیدہ ہے۔ اگر ایران اس کیلئے خطرہ ہے تو اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل نہیں۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: جیسے پہلے بتا دیا کہ ایران کسی بھی مسلمان کی فریاد پر اس کی داد رسی اپنے اوپر واجب سمجھتا ہے۔ چنانچہ ابتدائے انقلاب یعنی 1979ء ہی سے وہ فلسطییوں کی فریاد پر لبیک کہتے ہوئے اسرائیل کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہے۔ حالانکہ اس دوران ایران نے اسرائیل کے خلاف بھی کسی جنگی کارروائی میں کبھی پہل نہیں کی ہے۔ فلسطینوں کی اخلاقی، سماجی، سیاسی اور معاشی کمک کی ہے اور انکی مظلومیت کی آواز دنیا تک پہنچائی ہے، جبکہ اسرائیل سے ان کی یہ فریاد بھی برداشت نہیں ہو رہی اور اسی ردعمل میں انہوں نے بالواسطہ اور بلا واسطہ ایران پر بار بار جارحیت کی ہے۔ انکے سیاسی، مذہبی، فوجی رہنماؤں کے علاوہ ان کے سائنسدانوں کو ٹارگٹ کیا ہے۔ ویسے ایران ان کی سالمیت کے لئے سچ مچ ہی خطرہ ہے۔ کیونکہ اسرائیل کے خلاف یہ اس کے دشمنوں اور پراکسیز کو سپورٹ کرتا رہا ہے، دنیا بھر میں اسرائیل کو رسوا کر رہا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران کے علاوہ ابھی تک کسی ملک نے اسرائیل کے ساتھ پنگہ نہیں لیا ہے۔ صرف ایک بار مصر نے اپنے عرب اتحادیوں کے ہمراہ پنگہ لیا، تو انہیں اسرائیل کے اپنے رقبے کے چھ برابر رقبے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ چنانچہ وہ اب اسرائیل کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔
اسلام ٹائمز: ایران کی نسبت اسرائیل تو عرب ممالک کیلئے خطرہ ہے۔ لہذا ایران اسرائیل کے مابین جنگ میں عربوں نے ایران کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: عرب ممالک سے اسرائیل کے مقابلے میں ایران کے ساتھ کھڑے ہونے اور کمک کرنے کی امید شاید محال ہے۔ ان سے ایران یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ ایسے معرکے میں غیر جانبدار رہیں۔ مگر عرب ممالک نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کو اپنی زمین پیش کی۔ انہوں نے ایرانی میزائل کو راستے میں گرانے کی کوشش کی۔ حتی کہ قطر کی زمین ایران پر حملے کے لئے استعمال ہوئی تو کسی مسلم ملک نے اس کی مذمت تک نہیں کی۔ لیکن جب قطر میں موجود امریکی اڈے پر ایران نے حملہ کیا تو قطر سمیت پوری عرب دنیا نے اسے جارحیت قرار دیکر اس کی مذمت کی۔
اسلام ٹائمز: آغا صاحب! جب عرب ممالک کھلم کھلا اپنی زمین ایران کے کیخلاف استعمال کر رہے ہیں تو اپنی سالمیت کی خاطر ایران انکے خلاف تادیبی کاروائی کیوں نہیں کرتا۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: جی بھئی بہت اچھا سوال ہے۔ اصل سبب یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ہمیشہ سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ اپنی جنگ کو عرب و عجم جنگ یا شیعہ سنی جنگ کی شکل دے کر اسے انٹرنیشنل مسلکی جنگ میں تبدیل کر دیں، جس میں صیہونیوں کے بجائے مسلمان قربان ہوتے۔ ایران کی سب سے بڑی سیاسی مشکل اور کمزوری یہی ہے۔ ورنہ وہ اسرائیل سے پہلے امارات، آذربائجان، قطر، اردن اور دیگر اسلامی ممالک کے خلاف کارروائی کر لیتا۔
اسلام ٹائمز: پاکستان اس وقت کہاں کھڑا ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: مسلم ممالک میں سے صرف پاکستان نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور ایران کی حمایت کا اعلان کیا۔ دراصل اسرائیل کے حوالے سے پاکستان اور ایران کا ایک ہی موقف ہے۔ اسرائیل ایران کے بعد پاکستان ہی کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ چنانچہ اس نے پاک انڈیا جنگ کے دوران انڈیا کی کھل کر فوجی کمک کی۔ اسے فوجی سازوسامان دیا۔ اسرائیل پاکستان کے ایٹم بم کو اپنے لئے خطرہ قرار دے رہا ہے اور وہ اسے ختم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ چنانچہ اسرائیل کے حوالے سے دونوں ایک ہی پچ پر ہیں۔
اسلام ٹائمز: اسرائیل نے اگر دوبارہ ایران پر حملہ کیا تو کیا نتائج سامنے آئیں گے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: نتائج تو جون کی لڑائی میں کافی حد تک سامنے آچکے ہیں۔ دنیا کو جس کی امید نہ تھی، وہ نتائج دنیا نے مشاہدہ کئے۔ اس مرتبہ جنگ اس سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہوگی۔ دونوں جانب نقصانات ہونگے۔ تاہم ایک اہم بات یہ ہے، کہ اسرائیل نے عربوں خصوصاً ترکی کے تعاون سے شام کی وہ حکومت گرا دی، جو 60 سالوں سے انکے لئے سب سے بڑا خطرہ بنی رہی۔ داعش اور النصرہ سمیت درجن بھر دہشتگرد تنظیموں کو وجود میں لا کر شام میں خانہ جنگی کروائی۔ بشار حکومت کو گرانے کیلئے شام میں فسادات کروائے اور اس کے بنیادی ڈھانچے اور وہاں کے انفراسٹرکچر کو ختم کروایا۔ بشار حکومت گرا کر اسرائیل اپنے سب سے بڑے دشمنوں حزب اللہ اور حماس کی طرف سے آسودہ فکر ہوا، کیونکہ شام ہی سے ان تک رسائی ممکن تھی۔ شام کے سقوط سے حزب اللہ اور حماس مکمل طور پر محصور ہوکر رہ گئے۔ اسی طرح ایک ایک کرکے وہ اپنے دشمنوں کا صفایا کرکے گریٹر اسرائیل کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔ چنانچہ خدا نخواستہ ایران کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہوگا۔، یا کم از کم شام کو وہ مکمل طور پر ہڑپ لے گا۔
اسلام ٹائمز: اسرائیل کی جارحانہ پالیسی کیخلاف اسوقت پاکستان سمیت عالم اسلام کا کیا فرض بنتا ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: عالم اسلام سے کوئی خاص توقع رکھنا میرے خیال میں محال ہے۔ وہ اتنے سہمے ہوئے ہیں کہ انہیں اپنی بقاء کی فکر لاحق ہے، جبکہ پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی بقاء کی خاطر ترکیہ کو بھی ساتھ ملائے اور وقت سے پہلے پہلے اسرائیل کے خلاف ایک موثر اسلامی محاذ تشکیل دیں اور اسرائیل کی عالمی جارحیت کا راستہ روک دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ سید عابد الحسینی اسرائیل کے خلاف اسلام ٹائمز کے حوالے سے کی فریاد پر کہ اسرائیل اسرائیل کو اسرائیل کی سمجھتا ہے عرب ممالک کے تعلقات ایران کی کہ ایران کے علاوہ ایران پر ایران کے ایران اس نے ایران کے ساتھ خطرہ ہے اور اس ہے اور رہا ہے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔