اسلام ٹائمز کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران سابق سینیٹر اور تحریک حسینی کے سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی مسلمان کی فریاد پر اسکی داد رسی اپنے اوپر واجب سمجھتا ہے۔ چنانچہ ابتدائے انقلاب یعنی 1979ء ہی سے وہ فلسطییوں کی فریاد پر لبیک کہتے ہوئے اسرائیل کیخلاف آواز بلند کرتا رہا ہے۔ حالانکہ اس دوران ایران نے اسرائیل کیخلاف کسی جنگی کارروائی میں کبھی پہل نہیں کی ہے۔ فلسطینوں کی اخلاقی، سماجی، سیاسی اور معاشی کمک کی ہے اور انکی مظلومیت کی آواز دنیا تک پہنچائی ہے، جبکہ اسرائیل سے انکی یہ فریاد بھی برداشت نہیں ہو رہی اور اسی کے ردعمل میں انہوں نے بالواسطہ اور بلا واسطہ ایران پر بار بار جارحیت کی ہے۔ علامہ سید عابد الحسینی کا شمار ملک کے بزرگ، جید اور برجستہ علماء میں کیا جاتا ہے۔ سیاسی طور پر نہ صرف علاقائی بلکہ ملکی سطح پر فعال کردار کے حامل رہے ہیں۔ 1984ء سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ جبکہ 1988ء کے بعد تحریک جعفریہ پاکستان میں صوبائی صدر اور مرکزی سینیئر نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ایک طویل مدت تک تحریک جعفریہ پاکستان کی سپریم کونسل اور آئی ایس او کی مجلس نظارت کے رکن بھی رہے۔ 20 مارچ 1997ء میں تحریک جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن منتخب ہوئے، اسی دوران شورائ وحدت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل چنے گئے، جبکہ آج کل علاقائی سطح پر تین مدارس دینیہ کی نظارت کے علاوہ تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت سے کرم نیز ملکی سطح پر حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ایران اور اسرائیل کے موجودہ حالات اور کشیدہ صورتحال نیز عرب سمیت اکثر مسلم ممالک کی معنی خیز خاموشی کے حوالے سے انکے ساتھ خصوصی گفتگو کی ہے، جسے اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
 
اسلام ٹائمز: اسرائیل اور ایران کے تعلقات میں ہروقت کی بدمزگی اور کشیدگی کی اصل وجہ کیا ہوسکتی ہے۔؟ 
علامہ سید عابد الحسینی:
کسی بھی دو ممالک کے تعلقات میں گرم جوشی اور سرد مہری یا کشیدگی کی بنیادی وجہ انکے مفادات ہوتے ہیں۔ مفادات میں ہم آہنگی ہو تو تعلقات بہتر، نہیں تو کشیدہ ہوا کرتے ہیں۔ مفادات بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ معاشی مفادات، سماجی، سیاسی، دینی، قومی اور بین الاقوامی مفادات۔ ایران کی سیاست دیگر ممالک سے کافی حد تک جدا ہے۔ ایران کے تعلقات کا محور ذاتی اور سیاسی مفادات کے بجائے عموماً دینی مفادات ہوتے ہیں اور وہ اسے اپنے اوپر واجب سمجھتا ہے، کیونکہ یہی حکم اسلام کا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان فریاد کرے، اور کوئی اس کی فریاد پر لبیک نہ کہے تو وہ مسلمان نہیںِ۔ لہذا ایران کے تعلقات صرف اسرائیل ہی کے ساتھ خراب نہیں بلکہ ان تمام ممالک کے ساتھ کشیدہ ہیں، جو اسرائیلی مفادات کے محافظ ہیں۔ جیسے امریکہ اور یورپ۔ اب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کیوں خراب ہیں۔ وہ سب کے علم میں ہے کہ اس کی اصل وجہ فلسطین پر جارحانہ قبضہ اور مسلمانوں کا قتل عام ہے۔

اسلام ٹائمز: اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران اسکی سالمیت کیلئے خطرہ ہے، اسی وجہ سے انکے تعلقات کشیدہ ہے۔ اگر ایران اس کیلئے خطرہ ہے تو اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل نہیں۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
جیسے پہلے بتا دیا کہ ایران کسی بھی مسلمان کی فریاد پر اس کی داد رسی اپنے اوپر واجب سمجھتا ہے۔ چنانچہ ابتدائے انقلاب یعنی 1979ء ہی سے وہ فلسطییوں کی فریاد پر لبیک کہتے ہوئے اسرائیل کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہے۔ حالانکہ اس دوران ایران نے اسرائیل کے خلاف بھی کسی جنگی کارروائی میں کبھی پہل نہیں کی ہے۔ فلسطینوں کی اخلاقی، سماجی، سیاسی اور معاشی کمک کی ہے اور انکی مظلومیت کی آواز دنیا تک پہنچائی ہے، جبکہ اسرائیل سے ان کی یہ فریاد بھی برداشت نہیں ہو رہی اور اسی ردعمل میں انہوں نے بالواسطہ اور بلا واسطہ ایران پر بار بار جارحیت کی ہے۔ انکے سیاسی، مذہبی، فوجی رہنماؤں کے علاوہ ان کے سائنسدانوں کو ٹارگٹ کیا ہے۔ ویسے ایران ان کی سالمیت کے لئے سچ مچ ہی خطرہ ہے۔ کیونکہ اسرائیل کے خلاف یہ اس کے دشمنوں اور پراکسیز کو سپورٹ کرتا رہا ہے، دنیا بھر میں اسرائیل کو رسوا کر رہا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران کے علاوہ ابھی تک کسی ملک نے اسرائیل کے ساتھ پنگہ نہیں لیا ہے۔ صرف ایک بار مصر نے اپنے عرب اتحادیوں کے ہمراہ پنگہ لیا، تو انہیں اسرائیل کے اپنے رقبے کے چھ برابر رقبے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ چنانچہ وہ اب اسرائیل کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ 

اسلام ٹائمز: ایران کی نسبت اسرائیل تو عرب ممالک کیلئے خطرہ ہے۔ لہذا ایران اسرائیل کے مابین جنگ میں عربوں نے ایران کا ساتھ کیوں نہیں دیا۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
عرب ممالک سے اسرائیل کے مقابلے میں ایران کے ساتھ کھڑے ہونے اور کمک کرنے کی امید شاید محال ہے۔ ان سے ایران یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ ایسے معرکے میں غیر جانبدار رہیں۔ مگر عرب ممالک نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کو اپنی زمین پیش کی۔ انہوں نے ایرانی میزائل کو راستے میں گرانے کی کوشش کی۔ حتی کہ قطر کی زمین ایران پر حملے کے لئے استعمال ہوئی تو کسی مسلم ملک نے اس کی مذمت تک نہیں کی۔ لیکن جب قطر میں موجود امریکی اڈے پر ایران نے حملہ کیا تو قطر سمیت پوری عرب دنیا نے اسے جارحیت قرار دیکر اس کی مذمت کی۔

اسلام ٹائمز: آغا صاحب! جب عرب ممالک کھلم کھلا اپنی زمین ایران کے کیخلاف استعمال کر رہے ہیں تو اپنی سالمیت کی خاطر ایران انکے خلاف تادیبی کاروائی کیوں نہیں کرتا۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
جی بھئی بہت اچھا سوال ہے۔ اصل سبب یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ہمیشہ سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ اپنی جنگ کو عرب و عجم جنگ یا شیعہ سنی جنگ کی شکل دے کر اسے انٹرنیشنل مسلکی جنگ میں تبدیل کر دیں، جس میں صیہونیوں کے بجائے مسلمان قربان ہوتے۔ ایران کی سب سے بڑی سیاسی مشکل اور کمزوری یہی ہے۔ ورنہ وہ اسرائیل سے پہلے امارات، آذربائجان، قطر، اردن اور دیگر اسلامی ممالک کے خلاف کارروائی کر لیتا۔ 

اسلام ٹائمز: پاکستان اس وقت کہاں کھڑا ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
مسلم ممالک میں سے صرف پاکستان نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور ایران کی حمایت کا اعلان کیا۔ دراصل اسرائیل کے حوالے سے پاکستان اور ایران کا ایک ہی موقف ہے۔ اسرائیل ایران کے بعد پاکستان ہی کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ چنانچہ اس نے پاک انڈیا جنگ کے دوران انڈیا کی کھل کر فوجی کمک کی۔ اسے فوجی سازوسامان دیا۔ اسرائیل پاکستان کے ایٹم بم کو اپنے لئے خطرہ قرار دے رہا ہے اور وہ اسے ختم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ چنانچہ اسرائیل کے حوالے سے دونوں ایک ہی پچ پر ہیں۔

اسلام ٹائمز: اسرائیل نے اگر دوبارہ ایران پر حملہ کیا تو کیا نتائج سامنے آئیں گے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
نتائج تو جون کی لڑائی میں کافی حد تک سامنے آچکے ہیں۔ دنیا کو جس کی امید نہ تھی، وہ نتائج دنیا نے مشاہدہ کئے۔ اس مرتبہ جنگ اس سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہوگی۔ دونوں جانب نقصانات ہونگے۔ تاہم ایک اہم بات یہ ہے، کہ اسرائیل نے عربوں خصوصاً ترکی کے تعاون سے شام کی وہ حکومت گرا دی، جو 60 سالوں سے انکے لئے سب سے بڑا خطرہ بنی رہی۔ داعش اور النصرہ سمیت درجن بھر دہشتگرد تنظیموں کو وجود میں لا کر شام میں خانہ جنگی کروائی۔ بشار حکومت کو گرانے کیلئے شام میں فسادات کروائے اور اس کے بنیادی ڈھانچے اور وہاں کے انفراسٹرکچر کو ختم کروایا۔ بشار حکومت گرا کر اسرائیل اپنے سب سے بڑے دشمنوں حزب اللہ اور حماس کی طرف سے آسودہ فکر ہوا، کیونکہ شام ہی سے ان تک رسائی ممکن تھی۔ شام کے سقوط سے حزب اللہ اور حماس مکمل طور پر محصور ہوکر رہ گئے۔ اسی طرح ایک ایک کرکے وہ اپنے دشمنوں کا صفایا کرکے گریٹر اسرائیل کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔ چنانچہ خدا نخواستہ ایران کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہوگا۔، یا کم از کم شام کو وہ مکمل طور پر ہڑپ لے گا۔

اسلام ٹائمز: اسرائیل کی جارحانہ پالیسی کیخلاف اسوقت پاکستان سمیت عالم اسلام کا کیا فرض بنتا ہے۔؟ 
علامہ سید عابد الحسینی:
عالم اسلام سے کوئی خاص توقع رکھنا میرے خیال میں محال ہے۔ وہ اتنے سہمے ہوئے ہیں کہ انہیں اپنی بقاء کی فکر لاحق ہے، جبکہ پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی بقاء کی خاطر ترکیہ کو بھی ساتھ ملائے اور وقت سے پہلے پہلے اسرائیل کے خلاف ایک موثر اسلامی محاذ تشکیل دیں اور اسرائیل کی عالمی جارحیت کا راستہ روک دے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ سید عابد الحسینی اسرائیل کے خلاف اسلام ٹائمز کے حوالے سے کی فریاد پر کہ اسرائیل اسرائیل کو اسرائیل کی سمجھتا ہے عرب ممالک کے تعلقات ایران کی کہ ایران کے علاوہ ایران پر ایران کے ایران اس نے ایران کے ساتھ خطرہ ہے اور اس ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم