data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیونکہ بالوں کی صحت سے متعلق صنعت کی مالیت پانچ ارب اسی کروڑ پاؤنڈ ہے اور اس میں بے شمار مصنوعات، رجحانات اور ٹک ٹاک کے ٹرینڈز گردش میں ہیں جس کی وجہ سے بنیادی باتوں کو نظر انداز کرنا آسان ہوتا جا رہا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ صحت مند بال حاصل کرنے کے لیے زیادہ پیسہ خرچ کرنے یا پیچیدہ طریقے اپنانے کی ضرورت نہیں بلکہ سادہ اور بنیادی چیزوں کو درست طریقے سے کرنا ہی کافی ہے۔بہت زیادہ گرم پانی سے بال دھونا بھی ٹھیک نہیں، کیونکہ اس سے بال خُشک ہو سکتے ہیں اور آپ کے سر کی جلد جل سکتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے گرم پانی ہماری جلد کو جلا دیتا ہے۔اگر آپ تصور کریں کہ ایک بال ٹوٹ رہا ہے اور آپ اسے خوردبین کے نیچے دیکھیں تو وہ ایسے دکھائی دے گا جیسے اس کے دو یا تین اضافی سِرے بن گئے ہوں۔مارکیٹ میں دستیاب مصنوعات دراصل گلو یا گوند (چپکنے والے مادے) کی طرح کام کرتی ہیں یعنی وہ بالوں کو عارضی طور پر جوڑ دیتی ہیں تاکہ وہ بہتر نظر آئیں۔‘
اگر آپ بالوں کو باقاعدگی سے نہیں دھوتے تو ان سے بدبو آنے لگتی ہے اور گندے بالوں کی وجہ سے سر کی جلد کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے جیسے کے بالوں میں ڈینڈرف یا خشکی پیدا ہونے لگتی ہے۔ مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنے سر کی جلد کی دیکھ بھال بھی اسی طرح کریں جیسے آپ اپنے چہرے کی کرتے ہیں جیسے آپ میک اپ لگانے سے پہلے پرانا میک اپ صاف کیے بغیر دوبارہ نہیں لگاتے بلکُل ویسے ہی بالوں پر بار بار مصنوعات استعمال کرنے سے پہلے انھیں دھونا ضروری ہے۔
ویب ڈیسک
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔