data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سیاسی و سماجی رہنما لیاقت علی ساہی نے کہا کہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی شہادت سے ملک کی سیاست میں بہت بڑا خلا پید ہو گیا ہے جو مستقبل میں پُر ہوتا ہوا نہیں نظر نہیں آتا ، ماضی میں مقتدر قوتوں نے طاقت کو حاصل کرنے کے لیے ملک کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کی واضح مثال تاریخ میں پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کو ایک منصوبے کے تحت 27 دسمبر کو راولپنڈی لیاقت باغ کے جلسے میں سیکورٹی نہ فراہم کرکے نہتی کرکے دہشت گردوںکو ایک آسان ٹارگٹ موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ محترمہ شہید بینظیر بھٹو پاکستان کی لیڈر نہیں تھیں بلکہ وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی سیاسی رٹ کو تسلیم کروا چکی تھیں جس کا سیاسی طور پر ملک کے جمہوری اداروں کٹہرے میں نہیں لائے جاسکے جو یقینا ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشانہ ہے۔ ہم محترمہ کی سیاسی جدوجہد کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جس طرح انہوں نے دلیری کے ساتھ اپنا سیاسی کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح بہت کم لیڈر عوام کو مستقبل میں نظر آئیں گے۔بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کو آصف علی زرداری نے سیاسی طور پر ملکی سطح پر سیاسی طور پر محترمہ بینظیر بھٹو کے متبادل سیاستدان کے طور پر تیار کر دیا ہے جس کے لیے بلاول بھٹو کو بہت سے سخت فیصلے کرنے ہوں گے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر ملکی سطح پر ماضی کی طرح تسلیم کروانا ہوگا اس کے لیے یقینا صوبہ سندھ کی گورننس کو بہتر کرنا ہوگا آج کا دور سوشل میڈیا کا ہے عوام کو ہر سطح کی رسائی حاصل ہے گراس روٹ پر بیوروکریسی کی نااہلیوں کو پارٹی کی سطح پر بے نقاب کرکے عوام کو انصاف فراہم کرنا ہوگا اور کراچی کو بالخصوص ترجیحی بنیادوں پر ایڈریس کرنا ہوگا واٹر بورڈ کارپوریشن اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی کارکردگی کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا چونکہ موجودہ نظام کراچی کی عوام کو انصاف فراہم کرنے میں بْری طرح ناکام ہے اس میں یقینا ماضی کی حکومتوں کی بھی بہت بڑی کوتائیاں ہیں جس کی وجہ سے کراچی کا پورا نظام زمین بوس ہو گیا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کو بہتر کرکے عوام کو ان کے بنیادوں مسئلوں کو حل کرکے انصاف فراہم نہ کیا جاسکے۔ محنت کشوں کو تمام اداروں نے دیوار کے ساتھ طاقت کے بل بوتے پر لگا دیا ہے پہلے اداروں کو کرپشن کی بھینٹ چڑھایا جاتاہے جب ادارے خسارے میں ڈوبنا شروع ہو جاتے ہیں تو اس کا ذمہ دار ادارے میں ملازمت کرنے والے ورکرز کو ٹھہرا دیا جاتا جو کہ درست نہیں ان تمام اہم ایشوز پر بلا ول بھٹو زرداری کو اسٹیک ہولڈر کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا ہو گا جس طرح شہید محترمہ بینظیر بھٹو کیا کرتی تھیں جس سے ورکرز میں ایک نئی روح پھونک دی جاتی تھی اب وقت آگیا ہے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد متحد ہو کر اداروں میں کنٹریکٹ اور تھرڈ پارٹی کے خلاف آواز بلند کریں پارلیمنٹ کی سطح پر سیاسی پارٹیاں اپنا کردار ادا نہیں کر رہی اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ پارلیمنٹ کی سطح پر پارٹیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین پر عمل درآمد کرنے کے لیے اپنا کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر رہے جس سے محنت کشوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ایک بار پھر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس بات کا عزم کیا کہ ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد جا ری رہے گی۔

ویب ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محترمہ بینظیر بھٹو کی سطح پر عوام کو کرنا ہو کے لیے کو ایک

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری