شوگر ملز کی مانیٹرنگ ڈیوٹی سے غیرحاضرایف بی آر کے 6 اہلکار معطل
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: شوگر ملوں کی مانیٹرنگ ڈیوٹی سے غیرحاضر رہنے والےچھ اہلکارکومعطل کردیاگیا۔اہلکاروں کی غیرحاضری کا انکشاف ایل ٹی او لاہورکی معمول کی مانیٹرنگ کے دوران ہوا۔
ایف بی آر کےمطابق اہلکارشوگرکی پیداوارکی موثر،شفاف اوربلا تعطل نگرانی یقینی بنانے کیلئے تعینات کیےگئےتھے،،ایل ٹی اولاہور نےغفلت ولاپروائی کی سنگینی کےپیش نظرمتعلقہ افسران کیخلاف تادیبی کارروائی شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ غفلت برتنے پر ان اہلکاروں کوفوری طورمعطل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں،فرائض میں غفلت، بدانتظامی یا تفویض کردہ ذمہ داریوں کی عدم تعمیل پر قانون کےتحت سختی سے نمٹا جائے گا۔
ایف بی آرتمام فیلڈ فارمیشنز میں نظم و ضبط،دیانتداری اور پیشہ ورانہ معیاربرقرار رکھنےکیلئےپرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔