کوئی افغانی پاکستان آنا چاہتا ہے تو ویزا لے کر آئے‘ گورنرخیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد( مانیٹر نگ ڈ یسک ) گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کوئی افغانی پاکستان آنا چاہتا ہے تو ویزا لے کر آئے۔وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی مسائل ہمیشہ سیاسی طورپرحل کرتی ہے، پیپلزپارٹی نے کبھی اداروں کیخلاف بات نہیں کی۔اْنہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئیں،ماضی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت جیلوں میں گئی،خیبرپختونخوامیں امن وامان کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔گورنرخیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر پاکستان کو بچایا، خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کاسامنا ہے، پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کوواپس جانا چاہیے، یہاں دہشت گردی میں افغان باشندے ملوث ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کوئی افغانی پاکستان آنا چاہتا ہے تو ویزا لے کر آئے، صوبے میں دہشت گردی ہوگی تو کاروبار کیسے چلے گا؟اْن کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کو4دن میں شکست دی، پاکستان کا بھارت کوجواب ساری دنیانے دیکھا، آج دنیا پاکستان سے کاروباراوردفاعی معاہدے کرنا چاہتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔