data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251229-11-16
سکھر(نمائندہ جسارت)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر چودھری منظور احمد اور پی آئی اے کی ٹریڈ یونین پیپلز ورکرز یونٹی کے مرکزی چیئرمین رحمت اللہ خان نے سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کو غیر شفاف، غیر منصفانہ عمل قرار دیا ھے اور پارلیمنٹ سمیت ھر فورم پر اسکے حوالے سے آواز بلند کی جانے کا اعلان کیا ھے۔چودھری منظور نے کہا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری کے ذریعے قوم سے حقائق چھپا رہی ہے اور ایک مخصوص گروہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے قومی اثاثے کوڑیوں کے دام فروخت کیے جا رہے ہیں۔چودھری منظور نے واضح کیا کہ پی آئی اے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت قائم ادارہ ہے، جسے پارلیمانی منظوری کے بغیر فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی اس نجکاری کو اسمبلی، پارلیمنٹ اور عدالتوں میں چیلنج کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جس کی اصل مالیت کم از کم 135 ارب روپے بنتی ہے، اسے محض 10 ارب روپے میں دینے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ نجکاری کے نام پر جس کمپنی کو پی آئی اے دیا جا رہا ہے، اس کے پاس اس وقت صرف 30 طیارے ہیں، جن میں سے 20 اس کے اپنے اور 10 لیز پر ہیں۔اس کے علاوہ پی آئی اے کے 8 بڑے بکنگ آفسز بھی اس گروہ کے حوالے کیے جا رہے ہیں، جن میں کراچی صدر، راولپنڈی مال روڈ، اسلام آباد بلیو ایریا، لاہور پنجاب اسمبلی کے سامنے واقع پلازہ، ملتان، گلگت اور پشاور کا قیمتی دفتر شامل ہے، جہاں صرف پشاور کی پراپرٹی تقریباً تین ایکڑ پر محیط ہے۔چودھری منظور نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ عمل شفاف تھا تو پی آئی اے کے انجینئرز اور ملازمین کی موجودگی میں انونٹری کیوں تیار نہیں کی گئی؟ہینگرز، اسپیئر پارٹس، سپورٹنگ مشینری، گراؤنڈ ہینڈلنگ گاڑیاں اور دیگر قیمتی اثاثوں کی اصل مالیت چھپائی جا رہی ہے،جو ان کے مطابق دس ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے نے گزشتہ سال 26 ارب روپے منافع کمایا اور رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ساڑھے 11 ارب روپے منافع حاصل کیا ہے، جبکہ 13 طیاروں کے ساتھ بھی ایئر لائن منافع میں ہے۔ اگر تمام قابلِ استعمال طیارے بحال کر دیے جائیں تو اگلے سال منافع 40 سے 50 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔پیپلز ورکرز یونٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ پی آئی اے کو اصل نقصان ماضی کی غلط پالیسیوں سے پہنچا، جن میں 90 کی دہائی میں اوپن اسکائی پالیسی اور بعد ازاں پی ٹی آئی دور میں پائلٹس سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیانات شامل ہیں، جس سے قومی ایئر لائن کو عالمی سطح پر نقصان پہنچا۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے ملازمین کو 12 فیصد شیئرز مفت دیے تھے، مگر نجکاری کے عمل میں نہ تو ملازمین سے اجازت لی گئی اور نہ ہی انہیں اس عمل میں شامل کیا گیا، جو آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔آخر میں مقررین نے کہا کہ یہ سودا ایم سی بی اسکینڈل سے بھی بڑا ہو سکتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے پس پردہ عناصر بے نقاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری فوری طور پر روکی جائے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چودھری منظور کہ پی ا ئی اے پی ا ئی اے کی کہا کہ پی نے کہا کہ انہوں نے ارب روپے کیا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش