data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر(نمائندہ جسارت)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر چودھری منظور احمد اور پی آئی اے کی ٹریڈ یونین پیپلز ورکرز یونٹی کے مرکزی چیئرمین رحمت اللہ خان نے سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کو غیر شفاف، غیر منصفانہ عمل قرار دیا ھے اور پارلیمنٹ سمیت ھر فورم پر اسکے حوالے سے آواز بلند کی جانے کا اعلان کیا ھے۔چودھری منظور نے کہا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری کے ذریعے قوم سے حقائق چھپا رہی ہے اور ایک مخصوص گروہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے قومی اثاثے کوڑیوں کے دام فروخت کیے جا رہے ہیں۔چودھری منظور نے واضح کیا کہ پی آئی اے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت قائم ادارہ ہے، جسے پارلیمانی منظوری کے بغیر فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی اس نجکاری کو اسمبلی، پارلیمنٹ اور عدالتوں میں چیلنج کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جس کی اصل مالیت کم از کم 135 ارب روپے بنتی ہے، اسے محض 10 ارب روپے میں دینے کی تیاری کی جا رہی ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ نجکاری کے نام پر جس کمپنی کو پی آئی اے دیا جا رہا ہے، اس کے پاس اس وقت صرف 30 طیارے ہیں، جن میں سے 20 اس کے اپنے اور 10 لیز پر ہیں۔اس کے علاوہ پی آئی اے کے 8 بڑے بکنگ آفسز بھی اس گروہ کے حوالے کیے جا رہے ہیں، جن میں کراچی صدر، راولپنڈی مال روڈ، اسلام آباد بلیو ایریا، لاہور پنجاب اسمبلی کے سامنے واقع پلازہ، ملتان، گلگت اور پشاور کا قیمتی دفتر شامل ہے، جہاں صرف پشاور کی پراپرٹی تقریباً تین ایکڑ پر محیط ہے۔چودھری منظور نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ عمل شفاف تھا تو پی آئی اے کے انجینئرز اور ملازمین کی موجودگی میں انونٹری کیوں تیار نہیں کی گئی؟ہینگرز، اسپیئر پارٹس، سپورٹنگ مشینری، گراؤنڈ ہینڈلنگ گاڑیاں اور دیگر قیمتی اثاثوں کی اصل مالیت چھپائی جا رہی ہے،جو ان کے مطابق دس ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے نے گزشتہ سال 26 ارب روپے منافع کمایا اور رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ساڑھے 11 ارب روپے منافع حاصل کیا ہے، جبکہ 13 طیاروں کے ساتھ بھی ایئر لائن منافع میں ہے۔ اگر تمام قابلِ استعمال طیارے بحال کر دیے جائیں تو اگلے سال منافع 40 سے 50 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔پیپلز ورکرز یونٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ پی آئی اے کو اصل نقصان ماضی کی غلط پالیسیوں سے پہنچا، جن میں 90 کی دہائی میں اوپن اسکائی پالیسی اور بعد ازاں پی ٹی آئی دور میں پائلٹس سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیانات شامل ہیں، جس سے قومی ایئر لائن کو عالمی سطح پر نقصان پہنچا۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے ملازمین کو 12 فیصد شیئرز مفت دیے تھے، مگر نجکاری کے عمل میں نہ تو ملازمین سے اجازت لی گئی اور نہ ہی انہیں اس عمل میں شامل کیا گیا، جو آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔آخر میں مقررین نے کہا کہ یہ سودا ایم سی بی اسکینڈل سے بھی بڑا ہو سکتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے پس پردہ عناصر بے نقاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری فوری طور پر روکی جائے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چودھری منظور کہ پی ا ئی اے پی ا ئی اے کی کہا کہ پی نے کہا کہ انہوں نے ارب روپے کیا کہ

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم