ترقیاتی کام ادھورے: کراچی 2025 کے اختتام پر بھی میگا منصوبوں کی تکمیل سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سال 2025 اپنے اختتام کے قریب تر آ چکا ہے مگر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے حصے میں ایک بار پھر مایوسی کی فضا قائم ہے۔
رواں سال بھی وفاقی اور صوبائی حکومت کی زیر نگرانی تعمیر ہونے والا کوئی بڑا یا فیصلہ کن قابل ذکر ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیا جا سکا۔ یہ صورتحال نئی نہیں بلکہ گزشتہ کئی برس سے کراچی کے ساتھ یہی سلوک کیا جا رہا ہے، جہاں منصوبے شروع تو ہو جاتے ہیں مگر یا تو برسوں تک ادھورے رہتے ہیں یا ایسی حالت میں مکمل کیے جاتے ہیں کہ عوام کو ان کا عملی فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا۔
شہر قائد میں کئی ایسے منصوبے موجود ہیں جن کی بنیاد 8 برس قبل رکھی گئی تھی مگر آج بھی وہ فائلوں اور تعمیراتی مقامات کے درمیان معلق ہیں۔ کچھ منصوبے آدھے مکمل ہو چکے ہیں، بعض پر جزوی تعمیراتی کام کے بعد ہاتھ روک لیا گیا، جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جن پر کام جاری ہے مگر ان کے دیگر لازمی حصوں پر پیش رفت نہ ہونے کے باعث ان کی افادیت عوام تک پہنچنے پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ اس غیر مربوط منصوبہ بندی نے شہر کی ترقی کو شدید متاثر کیا ہے۔
شہر میں پانی کا بحران اس ناکامی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ تقریباً 3 کروڑ آبادی والے کراچی کو دریائے سندھ اور حب ڈیم سے یومیہ 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے جب کہ شہر کی اصل ضرورت 1200 ملین گیلن یومیہ ہے۔ اس طرح 550 ملین گیلن یومیہ کی شدید قلت موجود ہے، جو کئی دہائیوں سے حل طلب ہے۔
اس بحران پر قابو پانے کے لیے 2016 میں دو بڑے منصوبے شروع کیے گئے، مگر 9برس گزرنے کے باوجود وہ مکمل نہ ہو سکے۔ ایک اور منصوبہ 2024 میں مکمل تو کر لیا گیا، تاہم ناقص منصوبہ بندی کے باعث عوام اس کے فوائد سے محروم رہے۔
260 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی کی فراہمی کا منصوبہ کے فور 2016 میں سندھ حکومت اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے تحت شروع ہوا تھا، جسے 2 برس میں مکمل ہونا تھا، لیکن ناقص پلاننگ اور انتظامی کمزوریوں کے باعث 2018 میں اس پر کام روک دیا گیا۔
بعد ازاں وفاقی حکومت نے یہ منصوبہ واپڈا کے حوالے کیا، جس نے 2022 میں اس کی ری ڈیزائننگ کے بعد دوبارہ تعمیراتی کام شروع کیا۔ اس منصوبے کی تکمیل دسمبر 2025 رکھی گئی تھی، مگر فنڈز کی کمی کے باعث اب تک صرف 65 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے۔
کے فور منصوبے کے مزید 3 اہم حصے سندھ حکومت کو مکمل کرنا ہیں۔ ان میں سے دو پر کام شروع ہو چکا ہے جب کہ ایک پر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ان تینوں حصوں کی تکمیل کا ہدف 2027 مقرر کیا گیا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو پانی کے بحران سے فوری نجات ملنے کا امکان اب بھی کم ہے۔
اسی طرح 65 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی کا ایک اور منصوبہ سندھ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث 7 برس سے بند پڑا ہے، جس پر محض 15 فیصد کام ہی ہو سکا ہے۔
واٹر کارپوریشن کے ایک افسر کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ منصوبے مکمل ہونے سے قبل افتتاح کر دیا جاتا ہے بلکہ بنیادی مسئلہ حب ڈیم سے آنے والے پانی کی مکمل فراہمی کا نہ ہونا ہے۔
حب ڈیم سے 100 ملین گیلن یومیہ پانی آنا تھا مگر عملی طور پر صرف 70 ملین گیلن مل رہا ہے۔ واٹر کارپوریشن کی حدود میں نئی 22 کلومیٹر کینال تقریباً مکمل ہو چکی ہے، مگر واپڈا کی حدود میں واقع 8 کلومیٹر کینال خستہ حالی کا شکار ہے، جس کے باعث پانی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی صورتحال حوصلہ افزا نہیں۔ وفاقی حکومت کا گرین لائن فیز ٹو مختلف وجوہ کی بنا پر 3 برس تاخیر کا شکار رہا، تاہم 2 ماہ قبل اس پر تعمیراتی کام دوبارہ شروع ہوا ہے۔
یہ منصوبہ تاج میڈیکل کمپلیکس سے میونسپل پارک تک 3 کلومیٹر پر محیط ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک سال میں مکمل ہو جائے گا۔ اورنج لائن منصوبہ 4 برس قبل مکمل ہوا مگر تاحال مسافروں کی توجہ حاصل نہیں کر سکا جب کہ یلو لائن منصوبہ، جو داؤد چورنگی سے نمائش چورنگی تک 26 کلومیٹر طویل ہے، کئی برسوں کی تاخیر کے بعد 2024 میں شروع ہوا اور اس وقت صرف 13 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔
اسی طرح سیوریج کے شعبے میں سندھ حکومت کے تحت 2 بڑے منصوبے گزشتہ 2 دہائیوں سے تاخیر کا شکار ہیں۔ کمبائنڈ ایفولینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ، جو صنعتی فضلے کی صفائی کے لیے 2018 میں شروع ہونا تھا، اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ حکومت نے اب اسے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مگر اس کی عملی پیش رفت تاحال سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت مکمل ہو کے باعث شروع ہو کیا جا
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ