چینی برقی گاڑی پاکستان میں متعارف، قیمتیں جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
چینی برقی گاڑی XPENG کی مشہور SUV ماڈل G6 اب پاکستان میں دستیاب ہوگی۔ گاڑی 3 مختلف ویرینٹس میں آئے گی۔ RWD اسٹینڈرڈ رینج: 1 کروڑ 45 لاکھ روپے۔RWD لانگ رینج: 1 کروڑ 55 لاکھ روپے۔AWD پرفارمنس: 1 کروڑ 85 لاکھ روپے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا داخلہ بند، فیصلہ کا اطلاق کب سے ہوگا؟
کمپنی نے گاڑی کی بکنگ کے لیے 2 آپشن دیے ہیں۔ 45 دن میں ڈیلیوری کے لیے 40 فیصد ادائیگی جبکہ 90 دن میں ڈیلیوری کے لیے 20 فیصد ادائیگی ضروری ہے۔ یہ ابتدائی قیمتیں ہیں اور کمپنی کسی بھی وقت قیمتیں بڑھا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
RWD SUV XPENG ماڈل G6.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔