40 کروڑ کی پیشکش کیوں ٹھکرادی تھی؛ سنیل شیٹی کی پہلی بار لب کشائی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
بالی ووڈ کے ایکشن ہیرو سنیل شیٹی نے اپنے کیریئر میں کئی بلاک بسٹر فلمیں دی ہیں وہ رومانوی ہیرو اور کامیڈی اداکاری میں بھی مداحوں کا دل جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔
اداکار سنیل شیٹی کی پہلی شناخت ایک مضبوط ڈیل ڈول رکھنے والے فائٹرز ہیرو کی رہی ہے۔ وہ اپنی فلموں میں ولن کا بھرتا نکالتے نظر آتے ہیں۔
سنیل شیٹی کی ترجیح ہوتی تھی کہ وہ خطرناک اسسٹنٹ مناظر بھی خود فلم بند کروائیں اور اس کوشش میں وہ متعدد بار زخمی بھی ہوئے۔
ان ایکشن سین کی وجہ سے وہ نوجوانوں میں کافی مقبول تھے اور انھیں زیادہ تر ایسے ہی کرداروں میں پسند کیا جاتا رہا ہے۔
سنیل شیٹی بھی اپنے مداحوں بالخصوص نوجوانوں کے لیے ہمیشہ ایک رول ماڈل بننا چاہتے تھے جس کا انھوں نے عملی مظاہرہ 40 کروڑ کی پیشکش کو ٹھکرا کر کیا تھا۔
اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے حالیہ انٹرویو میں اداکار نے انکشاف کیا کہ تمباکو کے معروف برانڈ کے اشتہار میں کام کرنے کے لیے 40 کروڑ روپے کی آفر ہوئی تھی۔
سنیل شیٹی نے بتایا کہ اُس وقت نوجوان مجھے فالو کرتے تھے، میرا اسٹائل اپناتے تھے اس لیے میں نے سگریٹ کا اشتہار کرنے سے منع کردیا تھا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اگر میں اشتہار میں سگریٹ نوشی کرتا نظر آتا تو نوجوان بھی اس شوق کو اپناتے اور کہیں کوئی کسی بری لت میں نہ پڑے جائے، اس لیے میں اشتہار نہیں کیا۔
سنیل شیٹی نے کہا کہ میں خود بھی سگریٹ نہیں پیتا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتا ہوں اس لیے وہ اشتہار نہیں کیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سنیل شیٹی
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟