جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا بھارت میں کشمیری شال فروشوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ کشمیریوں پر بار بار حملے بھارت میں عدم برداشت میں خطرناک حد تک اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھارت کے مختلف علاقوں میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے کشمیری طلباء اور شال فروشوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کنوینر ناصر کھوئی ہامی نے یہ معاملہ ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ کے میڈیا ایڈوائزر نریش چوہان کے ساتھ اٹھایا اور ان سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا، خاص طور پر ضلع کانگڑا کے علاقے ڈیرہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے میں جہاں ایک کشمیری شال فروش کو حملہ کر کے شدید زخمی کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ مسئلہ بھارتی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کے دفتر کے ساتھ بھی اٹھایا اور اسے کشمیری طلباء اور تاجروں کو بھارت میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ سے آگاہ کیا۔ راہول گاندھی کے دفتر نے جواب میں مکمل تعاون اور مداخلت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے لیے انصاف اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس معاملے کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ کشمیریوں پر بار بار حملے بھارت میں عدم برداشت میں خطرناک حد تک اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ تنظیم نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں اور بھارت میں کشمیریوں کے تحفظ اور احترام کو یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن بھارت میں
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔