اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ کشمیریوں پر بار بار حملے بھارت میں عدم برداشت میں خطرناک حد تک اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھارت کے مختلف علاقوں میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے کشمیری طلباء اور شال فروشوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کنوینر ناصر کھوئی ہامی نے یہ معاملہ ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ کے میڈیا ایڈوائزر نریش چوہان کے ساتھ اٹھایا اور ان سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا، خاص طور پر ضلع کانگڑا کے علاقے ڈیرہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے میں جہاں ایک کشمیری شال فروش کو حملہ کر کے شدید زخمی کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ مسئلہ بھارتی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کے دفتر کے ساتھ بھی اٹھایا اور اسے کشمیری طلباء اور تاجروں کو بھارت میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ سے آگاہ کیا۔ راہول گاندھی کے دفتر نے جواب میں مکمل تعاون اور مداخلت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے لیے انصاف اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس معاملے کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ کشمیریوں پر بار بار حملے بھارت میں عدم برداشت میں خطرناک حد تک اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ تنظیم نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں اور بھارت میں کشمیریوں کے تحفظ اور احترام کو یقینی بنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن بھارت میں

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت