بدین: نشات اسٹوڈنٹس ویلفیئر اینڈ ٹریننگ کمیٹی کے تحت تربیتی ورکشاپ ختم
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-11-14
بدین(نمائندہ جسارت )نشات اسٹوڈنٹس ویلفیئر اینڈ ٹریننگ کمیٹی کے تحت پانچ روزہ تربیتی کیمپ کامیابی سے اختتام پذیر ، مختلف اضلاع سے آنے والے نوجوانوں نے مختلف شعبہ جات میں مہارت اور تربیت حاصل کی ، نشات اسٹوڈنٹس ویلفیئر اینڈ ٹریننگ کمیٹی کے زیرِ اہتمام پانچ روزہ تربیتی کیمپ بعنوان آرگنائزیشنل اینڈ مینجمنٹ اسکلز 23 دسمبر سے 27 دسمبر تک گاؤں خانصاحب عبدالرحمان ضلع بدین میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس تربیتی کیمپ میں سندھ کے مختلف اضلاع سے منتخب کیے گئے 35 طلبہ نے شرکت کی۔ کیمپ کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں تنظیمی صلاحیتوں، قیادت کے اصولوں اور انتظامی مہارتوں کو فروغ دینا تھا تاکہ وہ اپنی تعلیمی، سماجی اور ذاتی زندگی میں موثر اور فعال کردار ادا کر سکیں۔ تربیتی کیمپ کے دوران ماہر اساتذہ اور ٹرینرز کی جانب سے مختلف اہم موضوعات پر لیکچرز دیے گئے، جن میں کمیونیکیشن اسکلز، اسکوپ آف میڈیا، ٹیم ورک، فیصلہ سازی، وقت کی اہمیت، اجتماعی قیادت، سی وی لکھنے کے اصول، پریزنٹیشن اسکلز، ڈکلی میشن، پالیسی سازی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے آگاہی، فن تقریر، صحت مند زندگی گزارنے کے طریقے اور زندگی گزارنے کے بنیادی اصول شامل تھے۔ اس کے علاوہ گروپ ڈسکشنز، عملی مشقیں اور شخصیت سازی سے متعلق مختلف سرگرمیاں بھی کرائی گئیں، جنہوں نے شرکاء کے اعتماد، صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تربیتی کیمپ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔