کشمیری رہنماؤں کو نظربند کرکے حکومت یہاں بدامنی چاہتی ہے، فاروق عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ کچھ لیڈر شاید اس حقیقت سے ناخوش ہیں کہ جموں و کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی اور دیگر قائدین کی نظربندی کا دفاع کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ کشمیر میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ لیڈر جموں و کشمیر میں پیشرفت سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں پُرامن انتخابات اور بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی امید بھی ظاہر کی۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اتوار کو اپنی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی اور دیگر قائدین کی نظربندی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کشمیر میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جنوبی کشمیر کے پہلگام میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ کچھ لیڈر شاید اس حقیقت سے ناخوش ہیں کہ جموں و کشمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ان لیڈروں سے پوچھیں کہ وہ کیا کرنا چاہتے تھے ہم جتنا کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاید انہیں ریاست کی ترقی پسند نہیں ہے، وہ بدامنی چاہتے ہیں جس کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ بنگلہ دیش کی صورتحال کے حوالے سے جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلٰی نے امید ظاہر کی کہ پڑوسی ملک میں پُرامن انتخابات ہوں گے تاکہ نئی حکومت بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ نئی حکومت بھارت کے ساتھ دوستی کا راستہ اختیار کرے گی۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے آج سرینگر میں ریزرویشن مخالف مظاہروں کو ناکام بناتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کو گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔ حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے کہا کہ سرینگر میں آج طے شدہ احتجاج سے قبل بڈگام میں ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ آغا سید روح اللہ نے ریزرویشن پالیسی کو معقول بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سرینگر کے پولو ویو پر واقع شیر کشمیر پارک میں ایک احتجاج اور دھرنا کا اعلان کیا تھا۔ وہ ریزرویشن سمیت دیگر مسائل پر عمر عبداللہ کی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ نے انہوں نے کہا کہ سید روح اللہ اللہ نے کہ کچھ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔