2026 میں دنیا بھر میں خطرناک تنازعات کا خدشہ، امریکی تھنک ٹینک
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کی رپورٹ کے مطابق دنیا تیزی سے عدم استحکام اور تشدد کی جانب بڑھ رہی ہے اور 2026 میں کئی خطرناک عالمی تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال عالمی امن اور امریکی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ، یوکرین، پاک بھارت تعلقات اور افغانستان سمیت کئی محاذوں پر کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے۔ افریقا اور مشرقِ وسطیٰ میں بحران مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں جبکہ انسانی المیوں میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے ذیلی ادارے سینٹر فار پریوینٹو ایکشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی امن کو درپیش خطرات دوسری جنگِ عظیم کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین نے ممکنہ تنازعات کو شدت اور اثرات کے اعتبار سے درجہ بند کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے بعض تنازعات کم کرنے کی کوشش کی، تاہم بعض سخت پالیسیوں اور دباؤ نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ امن سازی اور تنازعات کی روک تھام سے متعلق اداروں اور فنڈنگ میں کمی پر بھی تنقید کی گئی ہے۔
پاکستان سے متعلق رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ مسلح تصادم کا امکان موجود ہے، جس کی وجہ مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی عسکریت پسند سرگرمیاں ہو سکتی ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بھی سرحد پار حملوں کے باعث کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے خطرناک تنازعات میں غزہ میں اسرائیل فلسطین کشیدگی، روس یوکرین جنگ میں شدت، ایران اسرائیل ممکنہ جنگ، چین کا تائیوان پر دباؤ اور شمالی کوریا کے جوہری تجربات شامل ہیں، جو عالمی سطح پر عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رپورٹ میں گیا ہے کہ
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔