کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بارش و برفباری کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک جبکہ صوبے کے شمالی اضلاع میں موسم شدید سرد رہے گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق رات کے وقت کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور قلات میں تیز ہواوٴں، گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔
ژوب، ہرنائی، بارکھان، سبی، لورالائی، موسیٰ خیل، تربت، گوادر، جیوانی، لسبیلہ اور کیچ میں بھی تیز ہواوٴں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
اسی طرح آواران، چاغی، پنجگور، خضدار، واشک اور خاران میں تیز ہواوٴں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت 3 اور قلات میں 2 ریکارڈ جبکہ زیارت میں کم سے کم درجہ حرارت صفر اور ژوب میں 4 ریکارڈ ریکارڈ کیا گیا۔
سبی میں کم سے کم درجہ حرارت 10، تربت میں 12، نوکنڈی میں 8 اور چمن میں 4 ریکارڈ کیا گیا۔ بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں کم سے کم درجہ حرارت 9 اور جیوانی میں 12 ریکارڈ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔