data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کی چین کو سمندری غذا کی برآمدات میں سال 2025 کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اعتماد اور معاشی تعاون کی واضح علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے نومبر 2025ء  کے دوران پاکستان نے چین کو تقریباً 235.

7 ملین ڈالر مالیت کی سی فوڈ برآمد کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 188.95 ملین ڈالر کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔

یہ اضافہ نہ صرف پاکستانی ماہی گیری اور فوڈ پروسیسنگ سیکٹر کی ترقی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ چین کی وسیع اور مستحکم مارکیٹ میں پاکستان کے لیے نئے مواقع بھی اجاگر کرتا ہے۔

چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے وزارتِ تجارت کے حکام کا کہنا ہے کہ برآمدات میں یہ نمایاں بہتری چینی صارفین میں اعلیٰ معیار کی سمندری غذا کی بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے۔

چینی مارکیٹ میں صحت بخش، محفوظ اور معیاری فوڈ مصنوعات کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پاکستانی سی فوڈ کو فائدہ پہنچا ہے۔ پاکستان سے چین کو برآمد کی جانے والی اہم مصنوعات میں فروزن مچھلی، اینکوویز، میکریل، اسکویڈ اور دیگر اقسام شامل ہیں، جن کی مالیت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق فروزن مچھلی کی برآمدات 2024ء  میں 46 ملین ڈالر تھیں، جو 2025ء  میں بڑھ کر 57 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ مجموعی برآمدی نمو میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، کیونکہ فروزن مچھلی چین میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سمندری غذاؤں میں شامل ہے۔ اسی طرح تازہ کیکڑوں کی برآمدات بھی مستحکم انداز میں بڑھتی رہیں اور جنوری سے نومبر 2025ء  کے دوران 31.93 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جب کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ مالیت 27.77 ملین ڈالر تھی۔

چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق فروزن کٹل فش اور اسکویڈ کی برآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 2025ء  کے پہلے 11 مہینوں میں 24.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جب کہ 2024ء  میں یہ 23.8 ملین ڈالر تھیں۔ اگرچہ یہ اضافہ نسبتاً محدود دکھائی دیتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی سی فوڈ چین میں اپنی جگہ مضبوط بنا رہا ہے اور مستقبل میں اس میں مزید وسعت آ سکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تجارتی تعلقات، خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ہونے والی پیش رفت نے لاجسٹکس کے شعبے کو بہتر بنایا ہے۔ شپنگ کے وقت میں کمی، بندرگاہوں کی استعداد میں اضافہ اور سپلائی چین کے بہتر انتظام نے پاکستانی برآمد کنندگان کو چینی منڈی تک زیادہ تیزی اور تسلسل کے ساتھ رسائی فراہم کی ہے۔ اس کے نتیجے میں چین میں پاکستانی سی فوڈ کی دستیابی میں استحکام آیا ہے، جو خریداروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنا۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سمندری غذا کی پروسیسنگ صلاحیتوں میں نمایاں بہتری بھی اس اضافے کا ایک اہم سبب قرار دی جا رہی ہے۔ فوڈ سیفٹی کے حوالے سے چینی معیار دنیا کے سخت ترین معیاروں میں شمار کیے جاتے ہیں اور پاکستانی برآمد کنندگان نے ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی پروسیسنگ، پیکجنگ اور کوالٹی کنٹرول کے نظام کو بہتر بنایا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستانی سی فوڈ برآمدات میں کی برآمدات ملین ڈالر کے مطابق رہا ہے

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف