چین کی منڈیوں میں پاکستانی سی فوڈ چھا گیا، برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کی چین کو سمندری غذا کی برآمدات میں سال 2025 کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اعتماد اور معاشی تعاون کی واضح علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے نومبر 2025ء کے دوران پاکستان نے چین کو تقریباً 235.
یہ اضافہ نہ صرف پاکستانی ماہی گیری اور فوڈ پروسیسنگ سیکٹر کی ترقی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ چین کی وسیع اور مستحکم مارکیٹ میں پاکستان کے لیے نئے مواقع بھی اجاگر کرتا ہے۔
چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے وزارتِ تجارت کے حکام کا کہنا ہے کہ برآمدات میں یہ نمایاں بہتری چینی صارفین میں اعلیٰ معیار کی سمندری غذا کی بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے۔
چینی مارکیٹ میں صحت بخش، محفوظ اور معیاری فوڈ مصنوعات کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پاکستانی سی فوڈ کو فائدہ پہنچا ہے۔ پاکستان سے چین کو برآمد کی جانے والی اہم مصنوعات میں فروزن مچھلی، اینکوویز، میکریل، اسکویڈ اور دیگر اقسام شامل ہیں، جن کی مالیت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق فروزن مچھلی کی برآمدات 2024ء میں 46 ملین ڈالر تھیں، جو 2025ء میں بڑھ کر 57 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ مجموعی برآمدی نمو میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، کیونکہ فروزن مچھلی چین میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سمندری غذاؤں میں شامل ہے۔ اسی طرح تازہ کیکڑوں کی برآمدات بھی مستحکم انداز میں بڑھتی رہیں اور جنوری سے نومبر 2025ء کے دوران 31.93 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جب کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ مالیت 27.77 ملین ڈالر تھی۔
چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق فروزن کٹل فش اور اسکویڈ کی برآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 2025ء کے پہلے 11 مہینوں میں 24.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جب کہ 2024ء میں یہ 23.8 ملین ڈالر تھیں۔ اگرچہ یہ اضافہ نسبتاً محدود دکھائی دیتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی سی فوڈ چین میں اپنی جگہ مضبوط بنا رہا ہے اور مستقبل میں اس میں مزید وسعت آ سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تجارتی تعلقات، خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ہونے والی پیش رفت نے لاجسٹکس کے شعبے کو بہتر بنایا ہے۔ شپنگ کے وقت میں کمی، بندرگاہوں کی استعداد میں اضافہ اور سپلائی چین کے بہتر انتظام نے پاکستانی برآمد کنندگان کو چینی منڈی تک زیادہ تیزی اور تسلسل کے ساتھ رسائی فراہم کی ہے۔ اس کے نتیجے میں چین میں پاکستانی سی فوڈ کی دستیابی میں استحکام آیا ہے، جو خریداروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنا۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سمندری غذا کی پروسیسنگ صلاحیتوں میں نمایاں بہتری بھی اس اضافے کا ایک اہم سبب قرار دی جا رہی ہے۔ فوڈ سیفٹی کے حوالے سے چینی معیار دنیا کے سخت ترین معیاروں میں شمار کیے جاتے ہیں اور پاکستانی برآمد کنندگان نے ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی پروسیسنگ، پیکجنگ اور کوالٹی کنٹرول کے نظام کو بہتر بنایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستانی سی فوڈ برآمدات میں کی برآمدات ملین ڈالر کے مطابق رہا ہے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔