مغربی ہواؤں کا سلسلہ آج سے ملک میں داخل ہونے کا امکان، مختلف شہروں میں بارشوں کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ آج ملک میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ چند روز کے دوران مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے بارش ہو سکتی ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے 23 اضلاع میں آج سے 31 دسمبر تک بارش کی توقع ہے۔ کوئٹہ، زیارت، قلات، چمن، پشین اور قلعہ عبداللہ میں بارش متوقع ہے، جبکہ قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب، بارکھان، سبی، لورالائی اور موسیٰ خیل میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اسی طرح کیچ، گوادر، لسبیلہ، آواران، چاغی، پنجگور، خضدار، واشک اور خاران میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ مغربی ہواؤں کے اس نظام کے تحت شمالی علاقوں میں برفباری کا بھی امکان ہے۔
ادھر 30 دسمبر سے یکم جنوری کے دوران چترال، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، باجوڑ، مہمند، صوابی اور کوہاٹ میں تیز ہواؤں کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں درمیانی سے شدید برفباری ہو سکتی ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق 30 دسمبر سے 2 جنوری کے دوران گلگت بلتستان کے اضلاع دیامیر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت اور شگر میں بارش اور برفباری کا امکان ہے، جبکہ کشمیر میں بھی وقفے وقفے سے بارش اور درمیانے درجے کی برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا امکان
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔