سخاوت کی تاریخ رقم، ملازمین میں 240 ملین ڈالر بونس کی تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
ایک امریکی کاروباری شخصیت نے اپنی غیر معمولی سخاوت کے باعث دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے، جب انہوں نے اپنی کمپنی کے تقریباً 540 ملازمین میں تقریباً 240 ملین ڈالر بطور بونس تقسیم کر دیے۔
فائبربونڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر گراہم واکرنے یہ رقم اس وقت تقسیم کی جب انہوں نے رواں سال کے آغاز میں الیکٹریکل آلات کے انکلوژرز بنانے والی اپنی کمپنی کو ایٹن کارپوریشن کو 1.
یہ بھی پڑھیں: علم سے محبت کی مثال: امریکا میں لائبریری سے لی گئی کتاب 54 سال بعد واپس
اگرچہ فائبربونڈ کے ملازمین کے پاس کمپنی کے حصص نہیں تھے، تاہم گراہم واکر نے اس بات پر اصرار کیا کہ فروخت سے حاصل ہونے والا فائدہ براہِ راست ملازمین تک پہنچنا چاہیے۔
NEW: Louisiana CEO gives away $240 million in bonuses ahead of Christmas to 540 full-time employees.
Graham Walker, who is the now-former CEO of Fibrebond, gave away an average of $443,000 per employee to be paid out over the next five years.
Walker recently sold the… pic.twitter.com/6KZuRPtzGO
— Collin Rugg (@CollinRugg) December 27, 2025
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس وقت تک معاہدہ حتمی شکل دینے سے انکار کر دیا جب تک ممکنہ خریدار اس بات پر آمادہ نہ ہو گئے کہ فروخت کی رقم کا 15 فیصد ملازمین کے لیے مختص کیا جائے۔
جون میں بونس کی ادائیگی کا عمل شروع ہوا، جس کے تحت فی ملازم اوسطاً 4 لاکھ 43 ہزار ڈالر دیے جا رہے ہیں۔ یہ رقم 5 سال کے عرصے میں مرحلہ وار ادا کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل گورننس میں نئی مثال، سعودی عرب نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا
بونس کے اعلان پر ابتدا میں کئی ملازمین نے اسے مذاق سمجھا، تاہم بعد ازاں اس رقم کو قرضے اتارنے، گاڑیاں خریدنے، کالج کی فیس ادا کرنے اور ریٹائرمنٹ کے لیے سرمایہ کاری میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
کمپنی کی ایک پرانی ملازمہ لیسیا کی نے بونس ملنے پرشکرگزاری کے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے 1995 میں 21 سال کی عمر میں فائبربونڈ میں ملازمت اختیار کی تھی اور مسلسل ترقی کرتے ہوئے رواں سال کے آغاز تک 18 افراد کی ٹیم کی سربراہی اور 254 ایکڑ پر پھیلے ادارے کی نگرانی کی ذمہ داری سنبھال چکی تھیں۔
مزید پڑھیں: میٹا چیٹ بوٹ سے ملنے کی کوشش میں امریکی شہری کی ہلاکت
انہوں نے بتایا کہ کمپنی میں شمولیت کے وقت انہیں فی گھنٹہ صرف 5.35 ڈالر معاوضہ ملتا تھا۔ ’پہلے ہم تنخواہ سے تنخواہ تک زندگی گزارتے تھے، اب میں واقعی جی سکتی ہوں، میں شکر گزارہوں۔‘
اس سوال پر کہ کیا واکر خاندان نے ملازمین کو اس سے بھی زیادہ بونس دینے پر غور کیا تھا، گراہم واکر نے جواب دیا کہ تقریباً پونے ایک ارب ڈالر ملازمین کے ہاتھوں میں جانا ہمیں منصفانہ لگا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی امریکی بہو: ’شادی کرکے شوہر کو امریکا لے جانے نہیں بلکہ پاکستان میں رہنے آئی ہوں‘
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو گیا، جہاں صارفین نے اس اقدام کو بے حد سراہا۔ ایک صارف نے لکھا کہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو محسوس کریں گے کہ انہوں نے لوگوں کی زندگیوں میں کتنی بڑی تبدیلی پیدا کی۔ یہی اصل زندگی ہے۔
ایک صارف نے اسے حیرت انگیز قرار دیا۔ ’عظیم انسان عظیم کام کرتے ہوئے، یہی دیکھنا اچھا لگتا ہے۔‘
مزید پڑھیں:
ایک تیسرے صارف نے ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ اگر ان کا باس ایسا کرے تو وہ دنیا کے سب سے خوش ملازم ہوں گے۔ ’وفاداری اور محنت کا اصل صلہ یہی ہے، عزت۔‘
رپورٹ کے مطابق فائبربونڈ کی بنیاد 1982 میں گراہم واکر کے والد کلاڈ واکر اور دیگر 11 افراد نے رکھی تھی، کمپنی نے دہائیوں کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کیا، جن میں 1998 میں فیکٹری میں لگنے والی آگ اور ڈاٹ کام ببل کے بحران شامل ہیں، تاہم ملازمین نے مشکل حالات میں بھی کمپنی سے وفاداری نبھائی۔
مزید پڑھیں:
بعد ازاں فائبربونڈ نے ڈیٹا سینٹرز کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو 2020 میں طلب بڑھنے کے ساتھ کامیاب ثابت ہوئی۔ اسی پیش رفت نے بالآخر کمپنی کی فروخت اور ملازمین کے لیے خطیر بونس کی راہ ہموار کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بونس ریٹائرمنٹ سرمایہ کاری سوشل میڈیا شکرگزار فائبربونڈ گراہم واکر وائرل وال اسٹریٹ جرنل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریٹائرمنٹ سرمایہ کاری سوشل میڈیا فائبربونڈ گراہم واکر وائرل وال اسٹریٹ جرنل ملازمین کے گراہم واکر مزید پڑھیں انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔