سال 2025ء سرکاری ملازمین اور اساتذہ کے لیے مجموعی طور پر مایوس کن رہا۔ پورے سال کے دوران کلرک، کلاس فور ملازمین، اساتذہ، خواتین ڈینگی اسٹاف اور دیگر سرکاری ملازمین اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلتے رہے، دھرنے دیے اور احتجاجی مظاہرے کرتے رہے، مگر ان کی جدوجہد کسی ٹھوس کامیابی تک نہ پہنچ سکی۔
تفصیلات کے مطابق سرکاری ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتالیں کیں، احتجاج کے دوران لاٹھی چارج، شیلنگ اور واٹر کینن کا سامنا کیا، جبکہ کئی مظاہرین تھانوں اور جیلوں تک بھی پہنچے۔ اس سب کے باوجود ان کا کوئی بڑا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریکیں زبانی احتجاج اور علامتی ہڑتالوں تک محدود ہو کر رہ گئیں۔
ملازمین کی تحریک اندرونی اختلافات کا شکار بھی رہی، مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے کے باعث اجتماعی طاقت کمزور پڑتی گئی۔ بعض حکومتی حامی ملازمین نے چند مراعات حاصل کر کے خود کو الگ کر لیا، جس سے مجموعی تحریک مزید کمزور ہو گئی اور اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
احتجاج اور دھرنوں کے باوجود کنٹریکٹ سسٹم مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ سال 2025 میں 44 سرکاری اداروں میں ایک بھی ریگولر بھرتی نہیں کی گئی۔ ریشنلائزیشن اور چھانٹیوں کے عمل کے تحت 15 ہزار اسکولوں اور 71 کالجز کی نجکاری کی گئی، جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا۔
دوسری جانب اندرونِ خانہ معاہدوں کے ذریعے اساتذہ اور کلرکوں کی یونینوں کے محدود حلقے، جن کی تعداد تقریباً 300 بتائی جاتی ہے، مالی اور معاشی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ان افراد کو فل پنشن اور دیگر مراعات کے ساتھ ریٹائر کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اکثریت محرومی کا شکار رہی۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران اساتذہ کی تنظیموں کے 61 مختلف گروپ بن چکے ہیں، جبکہ کلرکوں کی یونینیں بھی متعدد دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہیں، جس نے سرکاری ملازمین کی اجتماعی جدوجہد کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن