سال 2025: سرکاری ملازمین کے احتجاج، دھرنے اور ہڑتالیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سال 2025ء سرکاری ملازمین اور اساتذہ کے لیے مجموعی طور پر مایوس کن رہا۔ پورے سال کے دوران کلرک، کلاس فور ملازمین، اساتذہ، خواتین ڈینگی اسٹاف اور دیگر سرکاری ملازمین اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلتے رہے، دھرنے دیے اور احتجاجی مظاہرے کرتے رہے، مگر ان کی جدوجہد کسی ٹھوس کامیابی تک نہ پہنچ سکی۔
تفصیلات کے مطابق سرکاری ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتالیں کیں، احتجاج کے دوران لاٹھی چارج، شیلنگ اور واٹر کینن کا سامنا کیا، جبکہ کئی مظاہرین تھانوں اور جیلوں تک بھی پہنچے۔ اس سب کے باوجود ان کا کوئی بڑا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریکیں زبانی احتجاج اور علامتی ہڑتالوں تک محدود ہو کر رہ گئیں۔
ملازمین کی تحریک اندرونی اختلافات کا شکار بھی رہی، مختلف گروہوں میں تقسیم ہونے کے باعث اجتماعی طاقت کمزور پڑتی گئی۔ بعض حکومتی حامی ملازمین نے چند مراعات حاصل کر کے خود کو الگ کر لیا، جس سے مجموعی تحریک مزید کمزور ہو گئی اور اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
احتجاج اور دھرنوں کے باوجود کنٹریکٹ سسٹم مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ سال 2025 میں 44 سرکاری اداروں میں ایک بھی ریگولر بھرتی نہیں کی گئی۔ ریشنلائزیشن اور چھانٹیوں کے عمل کے تحت 15 ہزار اسکولوں اور 71 کالجز کی نجکاری کی گئی، جس کے نتیجے میں بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا۔
دوسری جانب اندرونِ خانہ معاہدوں کے ذریعے اساتذہ اور کلرکوں کی یونینوں کے محدود حلقے، جن کی تعداد تقریباً 300 بتائی جاتی ہے، مالی اور معاشی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ان افراد کو فل پنشن اور دیگر مراعات کے ساتھ ریٹائر کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اکثریت محرومی کا شکار رہی۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران اساتذہ کی تنظیموں کے 61 مختلف گروپ بن چکے ہیں، جبکہ کلرکوں کی یونینیں بھی متعدد دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہیں، جس نے سرکاری ملازمین کی اجتماعی جدوجہد کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین
پڑھیں:
پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
فوٹو: فائلپبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔
پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔
سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔