data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک زمانہ تھا جب پاکستان کے امرود کے باغات کے مالک صرف پھل بیچ کر کماتے تھے۔پھل سستا ہو جائے تو اکثر درختوں کے نیچے امرود گل سڑ جاتے، اور کسان سوچتے کہ کاش کوئی دوسرا فائدہ نکل آئے۔لیکن قدرت کی سب سے قیمتی نعمت تو ان کے سامنے تھی امرود کے پتے۔۔۔امرود کے پتے شوگر (ذیابیطس) کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔جاپان، انڈیا اور فلپائن کی تحقیق بتاتی ہے کہ امرود کے پتوں کا قہوہ کھانے کے بعد خون میں شوگر کی مقدار کو کم کرتا ہے۔یہ پتے ایسے قدرتی اجزاء رکھتے ہیں جو آہستہ آہستہ جسم میں شکر کے جذب ہونے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں۔جاپان نے تو “بنسورئیچا” (Bansoureicha) نامی گواوا لیف ٹی کو سرکاری طور پر FOSHU (Food for Specified Health Use) کی منظوری دے دی ہے، یعنی یہ شوگر کنٹرول کرنے والی منظور شدہ چائے ہے۔اور اب غور کیجیے:دنیا میں آج 537 ملین افراد ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔ہربل اور ہیلتھ ٹی کی عالمی مارکیٹ 20 ارب ڈالر سے زائد کی ہے، جو ہر سال 8-7%بڑھ رہی ہے۔یعنی جو پتے آج کسان جلا دیتے ہیں یا ضائع کر دیتے ہیں، وہ دراصل اربوں روپے کی سونا کی فصل ہیں۔کسانوں کے لیے سنہری موقع ایک پختہ امرود کا درخت سالانہ 8 سے 12 کلوگرام تک پتے دیتا ہے۔اگر کسی کے پاس 500 درخت ہوں تو وہ تقریباً 5000 کلوگرام پتّے حاصل کر سکتا ہے، جن سے 1000 کلوگرام خشک چائے تیار ہوتی ہے ۔ جو 50,000 ٹی بیگز کے برابر ہے۔اگر ہر پیکٹ صرف 2 ڈالر میں بیرونِ ملک فروخت ہو تو ایک کسان سالانہ 100,000 ڈالر تک کما سکتا ہے۔اس چیز سے جو پہلے کوڑے میں چلی جاتی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔