شہید سلیمانی اور شہید مہدی مہندس دشمنوں کے مقابلے میں مزاحمت کیلئے مشعلِ راہ ہیں، سید مجتبیٰ حسینی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
شہداء کی ٹارگٹ کلنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراق میں نمائندہ رہبر نے کہا کہ اس مجرمانہ اقدام کا حکم دینے والا امریکی صدر زمین پر موجود سب سے زیادہ خبیث اور شرور انسان تھا۔ اسلام ٹائمز۔ عراق میں رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کے نمائندے نے دو عظیم شہید کمانڈروں کے اسٹریٹجک کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا راستہ آج بھی دشمنوں کے مقابلے میں استقامت اور مزاحمت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حجت الاسلام والمسلمین سید مجتبیٰ حسینی نے شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے کلیدی اور فیصلہ کن کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں عظیم مزاحمتی کمانڈر اپنی استقامت اور جہاد کے ذریعے خطے میں امریکی و صہیونی منصوبے کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن گئے تھے اور ان کا راستہ آج بھی مزاحمت اور پائیداری کے لیے الہام بخش ہے۔ انہوں نے ان دونوں شہداء کی ٹارگٹ کلنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مجرمانہ اقدام کا حکم دینے والا امریکی صدر زمین پر موجود سب سے زیادہ خبیث اور شرور انسان تھا۔
انہوں نے شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے راستے کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج پہلے سے کہیں زیادہ ہم دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے رہنے کے لیے ان شہداء کی طاقت، عزم اور استکبار مخالف روح سے مدد لیتے ہیں اور انہیں اپنا نمونہ اور اسوہ قرار دیتے ہیں۔ عراق میں رہبرِ انقلاب کے نمائندے نے ان شہداء کی طاقت اور عزم سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر بھی تاکید کی اور کہا کہ دشمنوں کی سازشوں اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنی قوت، صلاحیتوں اور وسائل پر انحصار کرنا ہوگا اور یہ اجازت نہیں دینی چاہیئے کہ دباؤ اور دھمکیاں خطے کی اقوام کے عزم کو کمزور کرسکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہداء کی ہوئے کہا کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔