کوئٹہ بلدیاتی انتخابات کے التوا سے سب سے زیادہ نقصان جمعیت کو ہوا، جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ضلعی اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کے التواء پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جے یو آئی رہنماؤں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے التواء کا سب سے زیادہ نقصان جمعیت کو ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ضلعی امیر مولانا عبدالرحمٰن رفیق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں بلدیاتی انتخابات کے التواء پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متفقہ طور پر موقف اختیار کیا گیا کہ بلدیاتی انتخابات کے التواء کا سب سے زیادہ نقصان جمعیت کو ہوا۔ اس حوالے سے عدالتی فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمٰن رفیق نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے کارکنوں کی بھرپور محنت اور عوامی رابطہ مہم قابل تحسین ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام کوئٹہ کے غریب اور محروم عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کا سلسلہ پوری قوت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات جمعیت علماء اسلام کے اپنے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی درخواست پر ملتوی ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔