یکم جنوری سے اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد سیف سٹی کو کیپٹل سمارٹ سٹی بنانے کا جامع پلان طلب کر لیا ۔ وزیر داخلہ نے یکم جنوری سے اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے سیف سٹی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں وزیر داخلہ نے ڈیجیٹل وال پر شہر کی مانیٹرنگ نظام کا جائزہ لیا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے امن عامہ کے اقدامات کا مشاہدہ کیا۔ کنٹرول روم میں سپیشل چائنیز ڈیسک پر سیکورٹی سرویلنس کا معائنہ بھی کیا گیا۔
وزیر داخلہ کی زیر صدارت سیف سٹی ہیڈکوارٹرز میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ کیپٹل سمارٹ سٹی پر کام تیز کیا جائے اور شہری سہولیات جیسے ریسکیو 1122، ٹریفک، سیکورٹی اور سی ڈی ایم اے کو مرکزی نظام میں ضم کیا جائے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ کیپٹل سمارٹ سٹی کے سکوپ اور دائرہ کار کو پورے ملک تک بڑھایا جائے گا اور اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر بنانے کے لیے اسے ماڈل کے طور پر اپنایا جائے گا۔ محسن نقوی نے کہا کہ سیف سٹی میں اصلاحات اور ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آئی جی اسلام آباد پولیس نے سیف سٹی سے کیپٹل سمارٹ سٹی منتقلی کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ محرم الحرام میں سیف سٹی کیمروں کی مدد سے وقت اور وسائل کی بچت ہوئی۔ اجلاس میں وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیپٹل سمارٹ سٹی اسلام آباد وزیر داخلہ محسن نقوی سیف سٹی
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔