WE News:
2026-07-24@01:12:56 GMT

کشیدہ سیاست

اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT

کشیدہ سیاست

پاکستان اس وقت شدید سیاسی کشیدگی اور غیرمعمولی پولرائزیشن کے دور سے گزر رہا ہے۔ سیاسی اختلافات اب معمول کی جمہوری بحث سے نکل کر تصادم، بداعتمادی اور محاذ آرائی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج دن بدن وسیع ہو رہی ہے، جس کے اثرات نہ صرف سیاسی ماحول بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور قومی استحکام پر بھی واضح طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔

ملک میں سیاسی تقسیم اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ہر حکومتی فیصلہ، ہر عدالتی پیش رفت اور ہر عوامی ردعمل دو واضح متضاد بیانیوں میں بٹ جاتا ہے۔

ایک طرف حکومت اپنی پالیسیوں کو استحکام اور نظم و ضبط کے نام پر درست قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب عوام کا ایک بڑا طبقہ خود کو سیاسی طور پر بے اختیار، دیوار سے لگا ہوا اور مسلسل نظرانداز شدہ محسوس کرتا ہے۔ اس صورتحال میں سچ، انصاف اور قانون کے بجائے طاقت اور مفاد غالب دکھائی دیتے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں برداشت اور مفاہمت کی روایت ہمیشہ کمزور رہی ہے، مگر موجودہ دور میں یہ کمزوری خطرناک حد تک نمایاں ہو چکی ہے۔ سیاسی مخالفین کو غدار، ملک دشمن یا انتشار پسند قرار دینا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔

اس طرزِ سیاست نے نہ صرف جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ حکومتی ساکھ اور اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ جب قانون کا اطلاق یکساں نظر نہ آئے اور احتساب کا عمل انتخابی محسوس ہو تو عوام کا نظام پر یقین متزلزل ہونا فطری امر ہے۔

ملک پہلے ہی سنگین معاشی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری کی لپیٹ میں ہے۔ عام آدمی کی قوتِ خرید مسلسل کم ہو رہی ہے اور زندگی کی بنیادی ضروریات بھی مشکل سے پوری ہو رہی ہیں۔ مگر ان سب سے بڑا بحران اعتماد اور امید کا ہے۔

نوجوان نسل، جو کسی بھی ملک کا مستقبل سمجھی جاتی ہے، آج مایوسی، غصے اور بے یقینی کا شکار ہے۔ جب نوجوان یہ محسوس کریں کہ ان کے ووٹ، رائے اور خوابوں کی کوئی وقعت نہیں تو یہ صورتحال حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ بن جانی چاہیے۔

حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ سیاسی اختلاف کو طاقت سے دبانے کے بجائے مکالمے اور برداشت کے ذریعے حل کرے۔ سخت اقدامات، پابندیاں اور مخالف آوازوں کو خاموش کرانے کی کوششیں وقتی سکون تو فراہم کر سکتی ہیں، مگر دیرپا استحکام نہیں لا سکتیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جبر سے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، اتفاقِ رائے نہیں۔

ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے آئین کی بالادستی، قانون کی غیرجانبدارانہ عملداری اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی مخالفین کو دشمن کے بجائے اختلاف رکھنے والا فریق سمجھے اور قومی معاملات پر وسیع تر مشاورت کو فروغ دے۔ سیاست میں تلخی کم کیے بغیر نہ معیشت سنبھل سکتی ہے اور نہ ہی معاشرہ سکون کا سانس لے سکتا ہے۔

یہ وقت ذاتی انا، ضد اور وقتی سیاسی فائدے سے بالاتر ہو کر سوچنے کا ہے۔ اگر موجودہ پولرائزیشن کو سنجیدگی سے کم نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف آج تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔

حکومت، سیاست دانوں اور تمام ذمہ دار حلقوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قومی مفاد صرف مفاہمت، انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی میں ہی پوشیدہ ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اظہر لغاری

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف