کوئٹہ، تاجر کا 14 سالہ بیٹا اغواء، ملزمان کی تلاش جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اغواء کاروں نے کوئٹہ کے تاجر حاجی صلاح الدین خان کے 14 سالہ بیٹے جعفر خان کو گزشتہ شب کوئٹہ کے ائیرپورٹ روڈ کے علاقے مسلم آباد گراؤنڈ سے اغواء کر لیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اور تاجر کا بیٹا اغواء ہو گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے تاجر حاجی صلاح الدین خان کے 14 سالہ بیٹے جعفر خان کو گزشتہ شب کوئٹہ کے ائیرپورٹ روڈ کے علاقے مسلم آباد گراؤنڈ سے نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا ہے۔ اہلخانہ کے مطابق اغواء کار کالے شیشوں والی سفید کرولا گاڑی میں آئے تھے۔ جنہوں نے زبردستی بچے کو گاڑی میں بٹایا اور فرار ہو گئے۔ اہلخانہ کے مطابق گاڑی کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس کو فراہم کر دی گئی ہے اور پولیس کی جانب سے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ کسی بھی اطلاع کی صورت میں پولیس سے رابطہ کریں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی ایک تاجر کے بیٹے کو اغواء کیا گیا تھا۔ جسے زندہ بازیاب کرانے میں صوبائی حکومت اور پولیس بری طرح ناکام ہو گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔