پنجاب میں کم آمدن افراد کے لیے 37 ہزار سے زائد گھروں کا نیا منصوبہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کم آمدن والے افراد کے لیے ایک نیا ہاؤسنگ منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اڑھائی سے 3 مرلہ سرکاری اراضی پر 37 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر ممکن ہوگی۔
وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کو پنجاب افورڈایبل ہاؤسنگ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر عمران علی سلطان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے پنجاب کے 25 اضلاع کے 35 مقامات پر یہ منصوبہ شروع ہوگا، جن میں لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ، لیہ اور خانیوال شامل ہیں۔
وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے کہا کہ سرکاری اراضی پر اگلے تین ماہ میں پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے تعمیراتی کام کا آغاز ہوگا۔ مستحق خاندانوں کو اپنے گھر فراہم کرنا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پانچ سال کی مدت میں ”اپنی چھت اپنا گھر“ پروگرام کے تحت 5 لاکھ سے زائد خاندانوں کو گھر فراہم کیے جائیں گے، اور افورڈایبل ہاؤسنگ پراجیکٹ میں کم سے کم قسطوں کی رقم مقرر کی جائے گی تاکہ کم آمدن والے افراد بھی اپنے گھر خرید سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہاو سنگ
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔