کمنز، ہیزل ووڈ اور ٹم ڈیوڈ کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت پر کوچ کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز، جوش ہیزل ووڈ اور ٹم ڈیوڈ کو انجری کے خدشات کے باوجود ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ابتدائی اسکواڈ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
آسٹریلوی ٹیم کے کوچ اینڈریو میکڈونلڈ نے کہا کہ کمنز کو 15 رکنی عبوری اسکواڈ میں شامل کیا جائے گا، لیکن ان کی حتمی دستیابی کا فیصلہ مزید چار ہفتوں بعد بیک اسکین رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔
کمنز کو جولائی میں کمر کی لمبر اسٹریس انجری ہوئی تھی اور اس کے بعد وہ صرف ایک بین الاقوامی میچ کھیل سکے ہیں۔ انہوں نے ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں شاندار بولنگ کی، لیکن سیریز کے بقیہ میچز میں احتیاط کے طور پر انہیں آرام دیا گیا۔ کمنز نے کیریبین میں ہوئے پچھلے ورلڈ کپ کے بعد کوئی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا۔
جوش ہیزل ووڈ نے بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں متاثر کن کارکردگی دکھائی، مگر انجری کے باعث ایشز سیریز میں حصہ نہیں لے سکے۔ اب امید ہے کہ ان کی فٹنس بحال ہو چکی ہے۔
ٹم ڈیوڈ کو بگ بیش لیگ کے دوران ہیم اسٹرنگ انجری ہوئی تھی، تاہم کوچ کا کہنا ہے کہ وہ ورلڈ کپ تک فٹ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ 11 فروری کو کھیلے گا اور جنوری کے آخر میں پاکستان کے خلاف تین میچز بھی کھیلیں گے تاکہ ٹیم ورلڈ کپ کی تیاری مکمل کر سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔