سرینگر میں طلباء کے احتجاج سے قبل سیاسی رہنما گھروں میں نظر بند
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
بھارتی حکام نے سرینگر میں متنازعہ ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلباء کے مجوزہ احتجاجی دھرنے سے قبل سیاسی رہنمائوں کو گھروں میں نظربند کر دیا اور ان کی رہائش گاہوں کے باہر پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام نے سرینگر میں متنازعہ ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلباء کے مجوزہ احتجاجی دھرنے سے قبل سیاسی رہنمائوں کو گھروں میں نظربند کر دیا اور ان کی رہائش گاہوں کے باہر پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی۔ ذرائع کے مطابق سرینگر میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور رکن اسمبلی وحید پرہ اور سرینگر کے سابق میئر جنید عظیم مٹو کی رہائش گاہوں کے باہر پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ سیاسی رہنمائوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی کو معقول بنانے کا مطالبہ کرنے والے طلباء کے پرامن دھرنے میں شرکت کرنا تھی۔ اس سے قبل بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے وحید پرہ اور دیگر کے ہمراہ 23دسمبر کو وزیراعلی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ایک منصفانہ ریزرویشن فریم ورک کا مطالبہ کیا تھا۔
روح اللہ مہدی کے دفتر نے ان کی رہائش گاہ کے باہر مسلح اہلکاروں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے پوچھا، کیا یہ اقدام طلباء کے پرامن مظاہرے کو روکنے کے لیے پیشگی کارروائی ہے؟ ان کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حکام کو عوام کے سامنے وضاحت دینے کی ضرورت ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ طالب علموں کے دھرنے کا منصوبہ دھمکی آمیز ہتھکنڈوں کے باوجود جاری رہے گا۔
دریں اثناء وحید پرہ کے ایک قریبی ساتھی نے کہا کہ پلوامہ کے رکن اسمبلی کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس پابندی کو احتجاج سے پہلے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش قرار دیا۔ سرینگر کے سابق میئر جنید عظیم مٹو نے بھی اپنی رہائش گاہ کے باہر بھارتی فورسز کی بھاری تعیناتی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ضرورت سے زیادہ اور سیاسی انتقام قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد انصاف کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو دبانا ہے۔ انہوں نے طلباء کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جبر سے نہ تو غیر منصفانہ پالیسیوں کو جائز بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ طلباء کے دھرنے کا مقصد علاقے میں ریزرویشن کوٹہ کو معقول بنانے کے لیے دبائو ڈالنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے طلباء کے کی رہائش کی بھاری کے باہر کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔