بھارتی حکام نے سرینگر میں متنازعہ ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلباء کے مجوزہ احتجاجی دھرنے سے قبل سیاسی رہنمائوں کو گھروں میں نظربند کر دیا اور ان کی رہائش گاہوں کے باہر پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام نے سرینگر میں متنازعہ ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلباء کے مجوزہ احتجاجی دھرنے سے قبل سیاسی رہنمائوں کو گھروں میں نظربند کر دیا اور ان کی رہائش گاہوں کے باہر پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی۔ ذرائع کے مطابق سرینگر میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور رکن اسمبلی وحید پرہ اور سرینگر کے سابق میئر جنید عظیم مٹو کی رہائش گاہوں کے باہر پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ سیاسی رہنمائوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی کو معقول بنانے کا مطالبہ کرنے والے طلباء کے پرامن دھرنے میں شرکت کرنا تھی۔ اس سے قبل بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے وحید پرہ اور دیگر کے ہمراہ 23دسمبر کو وزیراعلی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ایک منصفانہ ریزرویشن فریم ورک کا مطالبہ کیا تھا۔

روح اللہ مہدی کے دفتر نے ان کی رہائش گاہ کے باہر مسلح اہلکاروں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے پوچھا، کیا یہ اقدام طلباء کے پرامن مظاہرے کو روکنے کے لیے پیشگی کارروائی ہے؟ ان کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حکام کو عوام کے سامنے وضاحت دینے کی ضرورت ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ طالب علموں کے دھرنے کا منصوبہ دھمکی آمیز ہتھکنڈوں کے باوجود جاری رہے گا۔

دریں اثناء وحید پرہ کے ایک قریبی ساتھی نے کہا کہ پلوامہ کے رکن اسمبلی کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس پابندی کو احتجاج سے پہلے اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش قرار دیا۔ سرینگر کے سابق میئر جنید عظیم مٹو نے بھی اپنی رہائش گاہ کے باہر بھارتی فورسز کی بھاری تعیناتی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ضرورت سے زیادہ اور سیاسی انتقام قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد انصاف کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو دبانا ہے۔ انہوں نے طلباء کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جبر سے نہ تو غیر منصفانہ پالیسیوں کو جائز بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ طلباء کے دھرنے کا مقصد علاقے میں ریزرویشن کوٹہ کو معقول بنانے کے لیے دبائو ڈالنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے طلباء کے کی رہائش کی بھاری کے باہر کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت