حنا آفریدی کی پہلی ڈھولکی کی رنگا رنگ تصاویر اور ویڈیوز وائرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
پاکستان کی مشہور ماڈل اور ٹیلی ویژن اداکارہ حنا آفریدی کی پہلی ڈھولکی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔ تقریب میں ان کے قریبی خاندان کے افراد اور دوستوں نے شرکت کی۔
اداکارہ اپنی فطری خوبصورتی اور جذباتی اداکاری کے لیے مداحوں میں مشہور ہیں۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پر اپنے کیریئر کا آغاز مقبول ڈرامہ سیریل پہلی سی محبت سے کیا اور بعد ازاں ماڈلنگ اور اداکاری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ حنا آفریدی اس وقت ڈرامہ راجا رانی میں اپنے کردار کے لیے تعریفیں حاصل کر رہی ہیں اور اس ماہ انہوں نے انسٹاگرام پر اپنے منگیتر تیمور اکبر کے ساتھ منگنی کی خوشخبری بھی شیئر کی تھی۔
ڈھولکی کی تقریب کی ویڈیوز حنا کے بھائی شعیب خان نے شیئر کیں جبکہ حنا کی بہن نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو بتایا کہ “میری چھوٹی بہن جلد شادی کے بندھن میں بندھنے والی ہیں۔”
اس موقع پر حنا نے ہلکا اور سادہ میک اپ کے ساتھ خوبصورت لباس پہنا، جس میں سادہ مگر نفیس چولی کے ساتھ پرنٹڈ اورگنزا لہنگا شامل تھا، جس پر پھولوں کا خوبصورت نقش تھا۔ ان کا میچنگ دوپٹہ گوٹہ ورک سے سجا ہوا تھا، جس نے ان کے مجموعی انداز کو اور بھی دلکش بنا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔