اندازہ ہے وسائل سے محروم افراد کیلئے علاج کتنا مشکل، خود بھی کینسر کا مریض رہا،وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیر اعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں کینسر کی تشخیص و علاج کیلئے ہسپتال کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں، مریضوں کے علاج کیلئے 24 گھنٹے سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔ وہ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، آنکو لوجی اینڈریڈیو تھراپی (کنور) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور، احسن اقبال، رانا ثناءاللہ، امیر مقام سمیت وفاقی وزراءکے علاوہ آزاد کشمیر کے ارکان اسمبلی، چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمشن، پروفیسرز، سرجنز اور فیکلٹی ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت اور کینسر کی تشخیص و علاج کیلئے آزاد کشمیر میں بھی ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔ اس سے بڑھ کر انسانیت کی کوئی خدمت ہو نہیں سکتی، پہلے آزاد کشمیر کے مریضوں کو سینکڑوں میل کا سفر کر کے دور دراز کے شہروں میں جانا پڑتا تھا جو تکلیف دہ اور مہنگا تھا۔ انہوں نے اٹامک انرجی کمشن اور ایس پی ڈی کے علاوہ مخیر حضرات اور ڈاکٹرز کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ہسپتال کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ خود بھی کینسر کے مریض رہے ہیں اور انکی مشکلات و تکالیف کا احساس ہے، لوگ اس مہنگے مرض کا علاج برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جدید وسائل اور ذرائع کو بروئے کار لاکر اس مرض کا شکار مریضوں کا علاج معالجہ کیا جائے اور تمام سہولیات کو 24 گھنٹے فعال رکھا جائے۔ مریضوں کیساتھ ایسا رویہ ہو کہ انہیں حوصلہ ملے اور ان کو علاج کیلئے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے تختی کی نقاب کشائی کر کے ہسپتال و میڈیکل کالج کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم نے ہسپتال کے مختلف شعبوں اور نصب مشینری کا بھی معائنہ کیا۔ انہیں مرض کی تشخیص و علاج معالجے کی سہولیات کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔ چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن راجا علی رضا انور نے اپنے استقبالیہ کلمات میں وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ایٹمی توانائی کمشن کے کینسر کے علاج کے لیے 21 ہسپتال کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک وفاق، 6 پنجاب، 5 خیبر پی کے، 5 سندھ ایک ایک بلوچستان، گلگت بلتستان و آزاد کشمیر میں ہے، سالانہ دس لاکھ مریضوں کا علاج کرتے ہیں، 60 فیصد مریض آخری سٹیج کے ہوتے ہیں۔ اس ہسپتال کے قیام سے مقامی سطح پر علاج ممکن ہو گا ۔ انہوں نے معاونت پر حکومت پاکستان و آزاد جموں و کشمیر، ایس پی ڈی اور شراکت داروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ڈی جی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی رافیل ماریانو گروسی نے تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قلات اور کرک میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے خوارج کے خلاف کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ کہا کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ملک کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علاج کیلئے ہسپتال کے علاج کی کہا کہ
پڑھیں:
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقےنشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق
اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔
اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگاسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیلمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے