ریزرویشن معاملے پر طاقت کی پالیسی قابل تنقید ہے، میرواعظ عمر فاروق
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
حریت کانفرنس کے چیئرمین نے ہریانہ، ہماچل پردیش اور بھارت کے دیگر حصوں میں کشمیریوں کیساتھ ہونے والی مبینہ ہراسانی پر بھی سنجیدہ توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی کے خلاف طلبہ کا احتجاج ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے۔ اس معاملے پر حریت کانفرنس کے چیئرمین اور کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے مرکز اور مقامی انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا "کشمیر میں یا کشمیر سے متعلق ہر مسئلے پر حکام کا ڈیفالٹ جواب ہوتا ہے، طاقت کا استعمال، اگرچہ طلبہ کا پُرامن دھرنا ہو جو یکطرفہ ریزرویشن پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں جو ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہوں"۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ہم طلبہ کی حمایت کرنے والے رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور کچھ طلبہ قائدین کو نظر بند کئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔
میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ یہ نوجوانوں سے جڑا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے، جسے سزا دینے کے بجائے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس کی ذمہ داری منتخب حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہریانہ، ہماچل پردیش اور بھارت کے دیگر حصوں میں کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ ہراسانی پر بھی سنجیدہ توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ طلبہ کی ریزرویشن کا تنازعہ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے، جموں و کشمیر میں ریزرویشن قوانین میں ترمیم کے بعد اوپن میرٹ (جنرل کیٹیگری) کا کوٹا سرکاری ملازمتوں اور داخلوں میں 50 فیصد سے کم ہو کر 40 فیصد سے بھی نیچے آ گیا، جبکہ ریزرو کیٹیگریز کا کوٹا 60 فیصد سے زیادہ ہوگیا۔ جنرل کیٹیگری کے طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی غیر متوازن ہے اور ان کے مستقبل کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میرواعظ عمر فاروق
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل