18 ویں ترمیم کے بعد سندھ میں صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ شہر کو ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام پارٹی کے ساتھ تعاون کریں تو سندھ ترقی کرے گا۔
لاڑکانہ میں بے نظیر میڈیکل یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کا کسی صوبے سے نہیں بلکہ اب دنیا سے مقابلہ ہے۔
بلاول بھٹو نے فارغ التحصیل طلبا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں۔
طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ نے اب عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے اور اپنے صوبے کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینی ہیں۔۔
انہوں نے ڈاکٹروں اور نرسوں کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کو بھی کسی وبا کا سامنا ہوا، ہمارے ڈاکٹروں اور نرسوں نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے صحت کے شعبے میں سندھ کی ترقی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سندھ میں شعبہ صحت کو ترجیح دی گئی۔
’ہم صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔‘
بلاول بھٹو نے نے بینظیر بھٹو کے مشن کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ بنیادی حقوق کی بات کرتی رہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج صرف ڈگریاں نہیں دی جا رہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا چیلنج بھی دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی علاج فراہم کرنا ہر ڈاکٹر کا فرض ہے اور وائیٹ کوٹ صرف لباس نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور یقین کی نشانی ہے۔
بلاول بھٹو کے مطابق ایک اچھا ڈاکٹر وہی ہوتا ہے جو اچھا انسان بھی ہو۔
انہوں نے فارغ التحصیل طلبا کی کامیابی کا سہرا والدین کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ آج کی اس کامیابی میں والدین کا کردار قابلِ تحسین ہے۔
واضح رہے کہ کانووکیشن کے موقع پر مجموعی طور پر 317 گریجویٹس میں ڈگریاں تقسیم کی گئیں، ان میں چانڈکا میڈیکل کالج کے 115، مہران میڈیکل کالج سکھر کے 29، بی بی آصفہ ڈینٹل کالج کے 29، بینظیر نرسنگ کالج کے 80، انسٹیٹیوٹ آف فارمیسی کے 29 اور انسٹیٹیوٹ آف فزیوتھراپی کے 35 گریجویٹس شامل تھے۔
تقریب میں 38 طلبہ کو سونے، چاندی اور کانسی کے تمغوں سے نوازا گیا جبکہ سب سے زیادہ گولڈ میڈلز طالبات نے حاصل کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسٹیٹیوٹ آف فزیوتھراپی بلاول بھٹو بینظیر چانڈکا میڈیکل کالج ڈینٹل کالج سکھر فارمیسی لاڑکانہ مہران میڈیکل کالج نرسنگ کالج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو ڈینٹل کالج سکھر فارمیسی لاڑکانہ مہران میڈیکل کالج نرسنگ کالج میڈیکل کالج ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کرتے ہوئے انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :