غزہ میں بارش اور سردی نے مشکلات میں اضافہ کر دیا، ہزاروں خیمے پانی میں ڈوب گئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
غزہ میں جاری جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی مشکلات پر سرد موسم اور شدید بارشیں مزید بوجھ بن گئی ہیں۔
جنوبی غزہ کے شہر خان یونس اور ساحلی علاقے المواسی میں موسلا دھار بارش کے نتیجے میں ہزاروں افراد کے خیمے پانی میں ڈوب گئے، جس سے رہائشی شدید سردی اور خوف کا شکار ہو گئے۔
اے ایف پی کے مطابق، جنوبی غزہ میں رہائش پذیر 47 سالہ جمیل الشرافی نے بتایا کہ رات کے وقت شروع ہونے والی بارش کے چند منٹوں میں ان کا خیمہ پانی سے بھر گیا، جس کی وجہ سے خوراک خراب ہو گئی اور کمبل بھیگ گئے۔ جمیل الشرافی اپنے چھ بچوں کے ساتھ ایک عارضی خیمے میں رہتے ہیں اور بچے سردی اور خوف سے کانپ رہے تھے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، غزہ کی تقریباً 80 فیصد عمارتیں جنگ میں تباہ یا جزوی طور پر متاثر ہو چکی ہیں، جبکہ 22 لاکھ کی آبادی میں سے تقریباً 15 لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں، جس کے باعث انسانی ہمدردی کی فوری ضرورت بڑھ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔