اسٹاک ایکسچینج میں سال کے آخری ہفتے کا شاندار آغاز، انڈیکس 174 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے سال کے آخری ہفتے کا آغاز شاندار انداز میں کیا، جہاں پیر کے روز کاروبار کے ابتدائی اوقات میں 100 انڈیکس 174 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔
دن کے دوران مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے بلند ترین سطح 174,411.72 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
صبح ساڑھے 11 بجے کے قریب کے ایس ای 100 انڈیکس 1,269.
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +1365.32 points (+0.79%) at midday trading. Index is at 173,766.05 and volume so far is 184.5 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/eUby4hG7zD
— Investify Pakistan (@investifypk) December 29, 2025
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، پاور جنریشن اور ریفائنریز کے شعبوں میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا۔
اٹک ریفائنری، حبکو، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی او ایل، حبیب بینک، میزان بینک اور مسلم کمرشل بینک سمیت اہم شیئرز رکھنے والی کمپنیاں سبز زون میں ٹریڈ کرتی رہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس میں 1,100 پوائنٹس کا اضافہ
اسٹاک ماہرین کے مطابق، بہتر ہوتی معاشی صورتحال، مہنگائی میں کمی اور مضبوط ملکی لیکویڈیٹی کے باعث 2026 میں بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج بہترین کارکردگی دکھانے والا اثاثہ رہنے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق، جنوری 2025 سے اب تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے امریکی ڈالر میں 50 فیصد سے زائد منافع دیا، جس سے یہ ایشیا کی بہترین مارکیٹس میں شامل ہو گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جو گزشتہ 18 ماہ میں 37 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے تاریخی اختتام کیا تھا، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 0.6 فیصد ہفتہ وار اضافے کے ساتھ 172,400.73 پوائنٹس پر بند ہوا اور سال کے اختتامی مرحلے میں تاریخی بلند سطح پر پہنچ گیا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد اضافہ
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی پیر کے روز 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ امریکی ڈالر تقریباً 3 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔
یہ صورتحال امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ سال شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث پیدا ہوئی، جس سے قیمتی دھاتوں میں بھی زبردست تیزی دیکھی گئی۔
دوسری جانب جغرافیائی سیاست بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی رہی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق پیش رفت کا عندیہ دیا۔
ایشیا پیسفک خطے میں ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.27 فیصد اضافے کے ساتھ اکتوبر کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.5 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 2 ماہ کی بلند ترین سطح پر آ گیا۔
جاپان کا نکی انڈیکس 0.4 فیصد کمی کا شکار رہا، جبکہ تائیوان کی مارکیٹ ریکارڈ بلند سطح پر بند ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹک ریفائنری اسٹاک ایکسچینج انڈیکس او جی ڈی سی ایل پاکستان پی پی ایل حبیب بینک ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو ماری انرجیز مسلم کمرشل بینک میزان بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج انڈیکس او جی ڈی سی ایل پاکستان پی پی ایل ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ سرمایہ کار فیڈرل ریزرو
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔