بہروز سبزواری کی ڈرامہ ریویو شو کی ججز پر سخت تنقید
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سینئر پاکستانی اداکار بہروز سبزواری نے کراچی میں منعقدہ اردو کانفرنس کے دوران ڈراموں پر تنقید کرنے والے پروگرام ’کیا ڈرامہ ہے‘ کی ججز پر کھل کر تنقید کی۔
بہروز سبزواری کو “خدا کی بستی” اور “تنہائیاں” جیسے لازوال ڈراموں میں نوشا، موبی اور قباچہ جیسے یادگار کرداروں کے لیے پہچانا جاتا ہے۔
اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایک نجی چینل پر کچھ اداکارائیں پاکستانی ڈراموں کو غیر مناسب انداز میں تنقید کا نشانہ بناتی ہیں، جو ان کے خیال میں درست نہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ لوگ ڈراموں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتے ہیں، یہ انصاف کے خلاف ہے۔ انہیں ڈرامہ پروڈکشن کے مسائل کا اندازہ نہیں، اور بعض کو تو اداکاری کا بنیادی علم بھی نہیں۔”
اس موقع پر اداکار یاسر حسین نے بھی گفتگو میں حصہ لیا اور کہا کہ کچھ لوگ اداکاری اور فلم سازی کے بنیادی اصولوں سے واقف نہیں ہونے کے باوجود تنقید کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، “اداکاری پر تب تنقید کی جا سکتی ہے جب آپ اس فن سے واقف ہوں، جیسے فاروق رند اور منور سعید۔ لیکن وہ خواتین جو خود اسی انڈسٹری میں کام کر رہی ہیں، وہ کیسے ڈراموں اور فلموں پر تنقید کر سکتی ہیں؟”
یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈرامہ اور اداکاری کے فن میں مہارت کے بغیر تنقید نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ فنکاروں کے کام کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔