بھارت کے بڑے شہر، جو کبھی ترقی اور خوشحالی کی علامت سمجھے جاتے تھے، آج زہریلی فضا، ٹریفک کے شدید مسائل، ٹوٹی سڑکوں اور کچرے کے انباروں کے باعث تیزی سے ناقابلِ رہائش بنتے جا رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے’ بی بی سی‘ نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ برسوں میں اربوں ڈالر کی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کے باوجود شہری زندگی بدتر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

راجستھان کے تاریخی شہر جے پور میں ایک مقامی ٹیکسی ڈرائیور نے طنزیہ انداز میں کہا، ’اگر جے پور کی شاہانہ خوبصورتی دیکھنی ہے تو یہاں مت آئیں، بس ایک پوسٹ کارڈ خرید لیں۔‘

یہ جملہ اس مایوسی کا عکاس ہے جو نہ صرف جے پور بلکہ بھارت کے بیشتر شہروں میں شہری زوال کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔

جے پور میں صدیوں پرانی تاریخی عمارتیں پان اور تمباکو کے داغوں سے اٹی ہوئی ہیں، جبکہ ان کے ساتھ ہی مکینک ورکشاپس اور بے ہنگم ٹریفک نظر آتی ہے۔ یہی صورتحال بنگلورو، ممبئی اور دہلی جیسے بڑے شہروں کی بھی ہے۔

بنگلورو، جسے بھارت کی سلیکون ویلی کہا جاتا ہے، وہاں شہریوں اور ارب پتی کاروباری شخصیات نے ٹریفک جام اور کچرے کے مسئلے پر کھل کر احتجاج کیا۔

ممبئی میں شہریوں نے مون سون کے دوران سڑکوں پر گڑھوں اور بند سیوریج لائنوں کے خلاف مظاہرے کیے، جہاں بارش کے پانی کے ساتھ کچرا سڑکوں پر پھیل گیا۔

دارالحکومت دہلی میں ہر سال سردیوں کے موسم میں شدید اسموگ معمول بن چکا ہے، جس کے باعث بچے اور بزرگ سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹروں نے بعض اوقات شہریوں کو شہر چھوڑنے تک کا مشورہ دیا۔

یہ بھی پڑھیے دنیا کے 20 آلودہ ترین شہروں میں 13 بھارتی شہر شامل، نئی رپورٹ جاری

حال ہی میں عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر لیونل میسی کے دورۂ دہلی کے دوران بھی شائقین نے خراب فضائی معیار کے خلاف نعرے لگائے۔

ماہرین کے مطابق مسئلے کی جڑ شہری حکمرانی کا کمزور نظام ہے۔ انفراسٹرکچر کے ماہر ونےایک چٹرجی کا کہنا ہے کہ بھارت کے آئین میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے اختیارات تو واضح کیے گئے، مگر یہ سوچا نہیں گیا تھا کہ شہر اتنے بڑے ہو جائیں گے کہ انہیں الگ اور مضبوط طرزِ حکمرانی درکار ہوگی۔

ورلڈ بینک کے مطابق اس وقت بھارت کی تقریباً 40 فیصد آبادی شہروں میں رہائش پذیر ہے، جو 1960 میں محض 70 لاکھ تھی۔ 1992 میں آئین کی 74ویں ترمیم کے ذریعے شہری اداروں کو بااختیار بنانے کی کوشش کی گئی، مگر ماہرین کے مطابق اس پر مکمل عملدرآمد کبھی نہ ہو سکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بااثر حلقے اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہونے دیتے، جبکہ چین میں اس کے برعکس شہر کے میئرز کو وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ چین میں شہری منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے فیصلے مقامی حکومتیں کرتی ہیں، جن کی کارکردگی کو مرکزی سطح پر جانچا جاتا ہے۔

بھارت میں صورت حال یہ ہے کہ میئرز اور بلدیاتی ادارے کمزور، وسائل سے محروم اور اختیارات سے خالی ہیں۔ مصنف انکور بیسن کے مطابق ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ ہی ’سپر میئرز‘ بن کر فیصلے کرتے ہیں، جس سے مقامی حکومتیں غیر مؤثر ہو جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر: پراسرار بیماری نے موت کا بازار گرم کردیا، طبی ماہرین ششدر

ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بھارت میں گزشتہ 15 سال سے مردم شماری نہیں ہوئی، جس کے باعث شہری آبادی کے درست اعداد و شمار موجود نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب مسئلے کی اصل نوعیت اور حجم ہی معلوم نہ ہو تو پالیسی سازی مؤثر نہیں ہو سکتی۔

ماہرین کا اتفاق ہے کہ جب تک شہری حکمرانی کو مضبوط، شفاف اور بااختیار نہیں بنایا جاتا، اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات نہیں دیے جاتے، بھارت کے شہر ترقی کے باوجود بدانتظامی اور بدحالی کا شکار رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلورو بھارتی شہر دارالحکومت دہلی ممبئی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلورو بھارتی شہر دارالحکومت دہلی بھارت کے کے مطابق جے پور

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم