جگر پھٹ جائیں گے، مدارس ختم کرنے کی حسرت پوری نہیں ہوگی: فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
ملتان ( نامہ نگار خصوصی ) جامعہ خیر المدارس ملتان کے 98ویں تعلیمی سال کے اختتام پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو انسانیت کی بقا منظور ہے، دین کی حفاظت بھی ہوتی رہے گی مدارس ختم کرنا حسرت ہے، حکمرانوں کے جگر پھٹ جائیں گے مگر مدارس قائم رہیں گے، حسرت پوری نہیں ہوگی۔ دشمنان اسلام کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شریعت، طریقت اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں، اور قرآن و سنت کی روشنی میں حریتِ فکر و عمل، خوشحال معیشت اور کمزور طبقات کی خبرگیری کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ وفاق المدارس العربیہ کے صدر مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ آج یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مدارس کے فضلاءکا کوئی معاشی مستقبل نہیں، حالانکہ دنیا بھر میں کبھی یہ نہیں سنا گیا کہ کسی مدرسے کے فاضل نے بھوک کی وجہ سے خودکشی کی ہو۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تعلیم کا مقصد محض پیسہ کمانا اور سماجی مرتبہ حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ مولانا محمد حنیف جالندھری نے صحیح بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ خیر المدارس نے جس علمی و دعوتی سفر کا آغاز جالندھر سے کیا تھا، الحمدللہ اس کے 98 سال مکمل ہو چکے ہیں، اور ان شاءاللہ دو سال بعد یہ عظیم ادارہ اپنی تعلیمی و دینی خدمات کی ایک صدی مکمل کر لے گا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں نے شروع ہی سے بلوچستان کو اپنی دعوت کا مرکز بنانے کی کوشش کی اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ بلوچستان کو قادیانی سٹیٹ بنایا جائے لیکن الحمدللہ ہمارے اکابر کی مسلسل محنت کے نتیجے میں قادیانیوں کی بلوچستان کے سرزمین پر ہونے والی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ