ملتان ( نامہ نگار خصوصی ) جامعہ خیر المدارس ملتان کے 98ویں تعلیمی سال کے اختتام پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو انسانیت کی بقا منظور ہے، دین کی حفاظت بھی ہوتی رہے گی مدارس ختم کرنا حسرت ہے، حکمرانوں کے جگر پھٹ جائیں گے مگر مدارس قائم رہیں گے، حسرت پوری نہیں ہوگی۔ دشمنان اسلام کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شریعت، طریقت اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں، اور قرآن و سنت کی روشنی میں حریتِ فکر و عمل، خوشحال معیشت اور کمزور طبقات کی خبرگیری کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ وفاق المدارس العربیہ کے صدر مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ آج یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مدارس کے فضلاءکا کوئی معاشی مستقبل نہیں، حالانکہ دنیا بھر میں کبھی یہ نہیں سنا گیا کہ کسی مدرسے کے فاضل نے بھوک کی وجہ سے خودکشی کی ہو۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تعلیم کا مقصد محض پیسہ کمانا اور سماجی مرتبہ حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ مولانا محمد حنیف جالندھری نے صحیح بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ خیر المدارس نے جس علمی و دعوتی سفر کا آغاز جالندھر سے کیا تھا، الحمدللہ اس کے 98 سال مکمل ہو چکے ہیں، اور ان شاءاللہ دو سال بعد یہ عظیم ادارہ اپنی تعلیمی و دینی خدمات کی ایک صدی مکمل کر لے گا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں نے شروع ہی سے بلوچستان کو اپنی دعوت کا مرکز بنانے کی کوشش کی اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ بلوچستان کو قادیانی سٹیٹ بنایا جائے لیکن الحمدللہ ہمارے اکابر کی مسلسل محنت کے نتیجے میں قادیانیوں کی بلوچستان کے سرزمین پر ہونے والی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار