قائداعظم ؒکی سیاست آئینی و جمہوری اصولوں پر استوار تھی، چیئرمین سینیٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد آئین، جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر یقین کی روشن مثال ہے۔وہ ایوان صدر میں قائداعظم کے یومِ پیدائش کےحوالے سےمنعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بابائے قوم
قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی بنیاد اُصولی قیادت، اخلاقی جرات اور آئینی جدوجہد کے ذریعے رکھی۔قائداعظم نے ہمیشہ دلیل، مکالمے اور قانونی اصولوں پر انحصار کیا اور کروڑوں مسلمانوں کی تقدیر کو جذبات یا تصادم کے بجائے فہم و فراست، صبر اور اخلاقی وقار کے ذریعے بدل کر رکھ دیا۔
چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ قائداعظم کی سیاست آئینی و جمہوری اصولوں پر استوار تھی ۔قائدکا پیغام آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔تقریب میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی 149 ویں سالگرہ کےحوالے سے کیک بھی کاٹا گیا۔اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قائداعظم کے اصولوں پر کار فرما ہو کرپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے متحد ہو کر آگے بڑھا جائے۔تقریب میں مختلف سکولوں کے بچوں نے کلام اقبال اور ملی نغمے پیش کئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ اصولوں پر
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔