data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251229-04-2
پاکستان کرسچن ویلفیئرسوسائٹی نے قونصلیٹ جنرل آف پاکستان میں کرسمس کی دعاکی تقریب کا انعقاد شایان شان اور پروقار انداز میں کیا۔ تقریب میں مسیحی برادری کے مرد اور خواتین کے علاوہ پاکستان کی دیگر کمیونٹی کے افراد نے بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جس میں مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ تقریب کے دوران حاضرین نے ایک دوسرے کو کرسمس کی مبارکباد دی اور باہمی محبت، رواداری اور ہم آہنگی کے جذبات کا اظہار کیا۔ یہ اجتماع بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے پیغام کو فروغ دینے کا خوبصورت مظہر ثابت ہوا۔پاکستان کے نئے آنے والے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ربانی نے اپنے خطاب میں مسیحی برادری کو مبارکباد دی اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں مسیحی برادری کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ (مسیحیوں کا کردار) ناقابل یقین ہے اور پاکستان میں دیگر کمیونٹیز کے ساتھ امن اور محبت سے رہنے کی ان کی خواہش کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم عفو و درگزر تھی۔ ہمیں اس کے پیغام کو پھیلانا چاہیے اور اس کی تعلیم کو اپنی زندگیوں میں بھی عملی جامہ پہنانا چاہیے۔ پی سی ڈبلیو ایس کے نائب صدر پیٹرک فلک شر نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور حاضرین کو کرسمس کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سب کو جینے کا حق دیا ہے لہٰذا سب کو بھائی چارے کو فروغ دیتے ہوئے امن سے رہنا چاہیے۔ پی سی ڈبلیو ایس کے صدر جان گلزار نے پاکستان میں کمیونٹی کے احساس کو سراہتے ہوئے کہا، “ہمیں پاکستان میں تمام تجارتی اور مذہبی مراعات حاصل ہیں اور اس نے ایک مستحکم کمیونٹی کی اجازت دی ہے۔” انہوں نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اورولیعہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے کام کرنے اور ملک کی خدمت کے مواقع فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعا کی۔ جان گلزار نے کرسمس ڈے بنانے کے لیے احاطے کے استعمال پر پاکستان قونصلیٹ اور قونصل جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ ناظم تقریب طالب تھے۔ انہوں نے محبت، ہم آہنگی، اور بقائے باہمی کو اجاگر کیا اور پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی اور مساوی حقوق کے لیے عزم کا اعادہ کیا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں ہم ا ہنگی کرسمس کی انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل