اسلام آباد(نیوزڈیسکی) قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ارکانِ اسمبلی سے سفری واؤچرز کی تفصیلات طلب کر لیں، ارکان اسمبلی نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ اسپیکر کے نوٹس میں لانے کا فیصلہ کر لیا۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے تمام اراکینِ قومی اسمبلی سے سفری واؤچرز کے استعمال سے متعلق تفصیلات طلب کر لی ہیں، جس پر ارکانِ اسمبلی کی بڑی تعداد نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ارکان نے اس غیر معمولی اقدام پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اراکینِ قومی اسمبلی کو سالانہ بنیادوں پر دو اقساط میں تقریباً بارہ سے پندرہ لاکھ روپے مالیت کے سفری واؤچرز فراہم کیے جاتے ہیں، جو وہ اپنے اور اہلِ خانہ کے فضائی سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے یکم جولائی سے اکتیس دسمبر تک جاری کیے گئے سفری واؤچرز کے استعمال کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

اس مقصد کے لیے اراکین کو ایک خصوصی پرفارما ارسال کیا گیا ہے، جس میں یہ واضح کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ سفری واؤچرز کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق ارکان کو بتایا گیا ہے کہ مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے بعد ہی یکم جنوری سے تیس جون دوہزارچھبیس تک کے باقی ماندہ سفری واؤچرز جاری کیے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سفری واو چرز تفصیلات طلب

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن