سکردو، یوم ولادت حضرت علیؑ کی تقریبات کے انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
قافلہ حیدری جو اپنے روایتی مقام بھٹو بازار سے برآمد ہو کر مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا مرکزی جامع مسجد میں شامل ہو گا، اس قافلے اور مرکزی میلاد میں ہزاروں افراد شریک ہو رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سکردو میں ولادت حضرت علی علیہ السلام کے سلسلے میں تمام پروگراموں کو آخری شکل دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں علی ڈے کمیٹی سکمیدان کے چیف آرگنائزر اسلم سحر نے انجمن امامیہ بلتستان کے صدر آغا باقر الحسینی سے خصوصی ملاقات کی اور جشن مولود کعبہ کے انتظامات اور ایجنڈے کے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔ علاوہ ازیں قافلہ حیدری جو اپنے روایتی مقام بھٹو بازار سے برآمد ہو کر مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا مرکزی جامع مسجد میں شامل ہو گا، اس قافلے اور مرکزی میلاد میں ہزاروں افراد شریک ہو رہے ہیں، مختلف مقامات سے علاقے کے سرکردگان، علمائے کرام، دانشور، منقبت خوان اور عاشقان علی اپنے عقیدت کے ساتھ شریک ہوں گے۔ آغا باقر الحسینی نے اس موقع پر انتظامات کے متعلق اطمنان کا اظہار کیا اور عوام سے بھرپور شرکت اور تمام پہاڑوں اور گھروں پر مثالی طور پر چراغان کرنے کی تاکید کی ہے۔ آغا باقر الحسینی نے کہا کہ یوم ولادت علی ایک عظیم دن ہے، اس دن کو عظمت اور عقیدت کے ساتھ شایان شان طریقے پر منعقد کرے تاکہ پوری دنیا میں واضح ہو کہ علیؑ کی ولادت کس شان سے منایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔