پنجاب حکومت ذہنی اور اخلاقی پستی کا شکار ہے، وزیراعلیٰ کے پی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
پشاور:
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت ذہنی اور اخلاقی پستی کا شکار ہے، قومی یکجہتی کے وقت نفرت آمیز رویّے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں، کے پی حکومت اس رویے کی شدید مذمت کرتی ہے۔
صوبائی کابینہ سے خطاب میں انہوں نے تین روزہ دورہ لاہور کے دوران پنجاب حکومت کے رویّے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت کا رویّہ غیر جمہوری اور قابلِ مذمت ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے کابینہ اراکین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،
ایک صوبے کے وزیراعلی کے لیے مسلسل راستے بند کیے گئے اور بازاروں کو زبردستی بند کروایا گیا، پنجاب پولیس کی جانب سے موٹروے پر ریسٹ ایریاز بھی بند کروائے گئے، مزار اقبال پر حاضری کے دوران لائٹس بند کرادی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، ملک میں معاشی و سیاسی عدم استحکام کے دوران ایسا رویّہ تشویش ناک اور ناقابل فہم ہے، قومی یکجہتی کے وقت نفرت آمیز رویّے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں، خیبر پختونخوا حکومت پنجاب حکومت کی اس رویے کی شدید مذمت کرتی ہے۔
وزیراعلی نے خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری افسران کو واضح ہدایات دیں کہ دیگر صوبوں سے آنے والے سرکاری وفود کی روایات اور استطاعت سے بڑھ کر خدمت کی جائے، خیبر پختونخوا میں کسی کو اجنبیت محسوس نہ ہو۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے اے آئی پی فنڈز کی عدم ادائیگی پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ فنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت متاثر ہو رہی ہے ، خیبر پختونخوا کے 4758 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب ادا ہیں، وفاقی وزارتِ خزانہ نے من گھڑت پروپیگنڈا کے ذریعے فسکل ریلیز سے متعلق میڈیا ٹرائل کی کوششیں کی، وفاقی حکومت تمام صوبوں کو دیے گئے فنڈز کی تفصیل بھی سامنے لائے۔
وزیراعلی نے خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کے بقایاجات کا موازنہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور بقایاجات کے حوالے سے تمام محکموں کو باضابطہ خطوط لکھنے اور تحریری جواب مانگنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگلے اجلاس میں بقایاجات سے متعلق تمام محکمے صوبائی کابینہ کو بریفنگ دیں۔
وزیراعلی نے جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کا حکم دیا، صحت اور تعلیم کو حکومتی ترجیحات قرار دیا گیا۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق ہیلتھ اور ایجوکیشن صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا پنجاب حکومت حکومت کی کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔