الخدمت ڈائگنوسٹک کا تاریخی سنگ میل: ایف سی پی ایس پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے لیے تسلیم شدہ قرار
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
الخدمت ڈائگنوسٹک (ناظم آباد) کو کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) کی جانب سے باضابطہ طور پر ایف سی پی ایس ڈائگنوسٹک ریڈیولوجی ٹریننگ پروگرام کے لیے ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔
یہ ایک تاریخی کامیابی ہے کیونکہ الخدمت کا یہ پہلا صحت کا ادارہ ہے جس نے پوسٹ گریجویٹ ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ کا درجہ حاصل کیا ہے، جو الخدمت کے صحت اور طبی تعلیم کے شعبے میں غیر متزلزل عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان سے 2500 افراد پر مشتمل طبی عملہ کب اور کیسے غزہ پہنچے گا؟
سی پی ایس پی کی جانب سے یہ منظوری الخدمت کے تشخیصی انفراسٹرکچر، فیکلٹی کی مہارت، اور کلینیکل پروٹوکولز کے جامع اور سخت معائنے کے بعد دی گئی ہے۔
اس کے بعد الخدمت ڈائگنوسٹک اب ماہر ریڈیولوجسٹ کی نئی نسل کی تربیت فراہم کرنے کے قابل ہو گیا ہے، جس سے جدید تشخیصی خدمات اور تعلیمی معیار کے درمیان موجود خلا کو پر کرنے میں مدد ملے گی۔
اس موقع پر ڈائریکٹر الخدمت ڈائگنوسٹک اور ٹریننگ ہیڈ برائے ایف سی پی ایس، ڈاکٹر عظیم الدین نے کہاکہ یہ الخدمت ہیلتھ سروسز کے لیے ایک انقلابی موڑ ہے۔
’سی پی ایس پی سے بطور ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ تسلیم ہونا عوام کو عالمی معیار کی صحت فراہم کرنے کے ہمارے مشن کی تصدیق ہے۔ اس سے نہ صرف ہماری تشخیصی خدمات تعلیمی و تحقیقی معیار کے مطابق ہوں گی، بلکہ ہمیں ملک کے لیے ماہر طبی ماہرین تیار کرنے کا موقع بھی ملے گا۔‘
واضح رہے کہ ایف سی پی ایس پاکستان کی اعلیٰ ترین پوسٹ گریجویٹ طبی ڈگری ہے۔ اس اعتراف کے بعد الخدمت ڈائگنوسٹک میں ریذیڈنٹ ڈاکٹرز منظور شدہ سپروائزرز کی نگرانی میں اپنی تربیت مکمل کریں گے، جس سے ادارے میں ریڈیولوجیکل ٹیکنالوجی اور جدید طبی مشقوں کا تسلسل برقرار رہے گا۔
اس اہم پیش رفت سے الخدمت میں مریضوں کے علاج کے معیار میں مزید بہتری آنے کی توقع ہے، کیونکہ ٹریننگ پروگرام کے قیام سے کلینیکل اسٹینڈرڈز بلند ہوں گے اور جدید طبی تبدیلیوں کو فوری طور پر اپنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: کراچی: مسلح افراد الخدمت اسپتال کی وین سے نقد رقم چھین کر فرار
الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کا ایک ممتاز فلاحی ادارہ ہے جو اسپتالوں، کلینک اور ڈائگنوسٹک سینٹرز کا وسیع نیٹ ورک چلاتا ہے۔ بلا امتیاز انسانیت کی خدمت کے لیے وقف الخدمت نے اب طبی تعلیم اور پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے شعبے میں بھی قدم رکھ دیا ہے۔
کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو پوسٹ گریجویٹ طبی ماہرین کی رجسٹریشن، تربیت اور امتحانات کا ذمہ دار ہے اور طبی تعلیم میں بین الاقوامی معیارات قائم رکھتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews الخدمت ڈائگنوسٹک الخدمت فاؤنڈیشن پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ سی پی ایس پی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الخدمت ڈائگنوسٹک الخدمت فاؤنڈیشن پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ سی پی ایس پی وی نیوز ایف سی پی ایس پوسٹ گریجویٹ سی پی ایس پی کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔