سہیل آفریدی کا وفاق سے فنڈز کی عدم ادائیگی پر شدید اعتراض
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق سے ایکسلریٹڈ امپلی مینٹیشن پروگرام (اے آئی پی) فنڈز کی عدم ادائیگی پر شدید اعتراض کیا ہے۔
صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ اے آئی پی فنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت متاثر ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اخلاقی و ذہنی پستی کی شکار، رویہ غیر جمہوری اورقابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 4758 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب ادا ہیں، وزارت خزانہ نے من گھڑت پروپیگنڈے کے ذریعے فنڈز سے متعلق میڈیا ٹرائل کی کوششیں کیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو دیے گئے فنڈز کی تفصیل بھی سامنےلائے اور ساتھ ہی خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں کے بقایاجات کا موازنہ پیش کیا جائے۔
سہیل آفریدی نے بقایا جات سے متعلق محکموں کو خطوط لکھنے اور تحریری جواب مانگنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اگلے اجلاس میں بقایاجات سے متعلق محکمے صوبائی کابینہ کو بریفنگ دیں۔
انہوں نے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ ہیلتھ اور ایجوکیشن صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے فنڈز کی کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔